غزل

ردیف الف

  1. دو رنگی خوب نئیں یک رنگ ہو جا
  2. آیا پیا شراب کا پیالا پیا ہوا
  3. اغیار چھوڑ مجھ سیں اگر یار ہووے گا
  4. قد ترا سرو رواں تھا مجھے معلوم نہ تھا
  5. تھا بہانہ مجھے زنجیر کے ہل جانے کا
  6. چراغ مہ سیں روشن تر ہے حسن بے مثال اس کا
  7. جان و دل سیں میں گرفتار ہوں کن کا ان کا
  8. تری نگاہ تلطف نے فیض عام کیا
  9. اے دل بے ادب اس یار کی سوگند نہ کھا
  10. میں نہ جانا تھا کہ تو یوں بے وفا ہو جائے گا
  11. عشق کی جو لگن نہیں دیکھا
  12. تیری بھنووں کی تیغ کے جو روبرو ہوا
  13. دل میں جب آ کے عشق نے تیرے محل کیا
  14. یار گرم مہربانی ہو گیا
  15. عشق نے خوں کیا ہے دل جس کا
  16. ہے دل میں خیال گل رخسار کسی کا
  17. تجھ زلف کی شکن ہے مانند دام گویا
  18. غم کی جب سوزش سیں محرم ہووے گا
  19. جاناں پہ جی نثار ہوا کیا بجا ہوا
  20. کل سیں بے کل ہے مرا جی یار کوں دیکھا نہ تھا
  21. نین کی پتلی میں اے سریجن ترا مبارک مقام دستا
  22. دل دار کی کشش نے اینچا ہے من ہمارا
  23. دن بدن اب لطف تیرا ہم پہ کم ہونے لگا
  24. کہاں ہے گل بدن موہن پیارا
  25. محرم دل ہوا وو صحرا وا
  26. جس نے تجھ حسن پر نگاہ کیا
  27. ہوا ہوں ان دنوں مائل کسی کا
  28. ہماری آنکھوں کی پتلیوں میں ترا مبارک مقام ہے گا
  29. رشتے میں تری زلف کے ہے جان ہمارا
  30. جو کچھ کہ تم سیں مجھے بولنا تھا بول چکا
  31. میرے جگر کے درد کا چارا کب آئے گا
  32. جو تجھے دیکھ کے مبہوت ہوا
  33. غم نے باندھا ہے مرے جی پہ کھلا ہائے کھلا
  34. ہمارا دل بر گلفام آیا
  35. مجھ سیں غم دست و گریباں نہ ہوا تھا سو ہوا
  36. سرو گلشن پر سخن اس قد کا بالا ہو گیا
  37. ہمارے پاس جاناں آن پہنچا
  38. نقش قدم ہوا ہوں محبت کی راہ کا
  39. فصل گل کا غم دل ناشاد پر باقی رہا

ردیف ب

  1. مجلس عیش گرم ہو یارب

ردیف ت

  1. ادائے دل فریب سرو قامت
  2. جب سیں دیکھا ہوں یار کی صورت
  3. کیا غم نے سرایت بے نہایت

ردیف ٹ

  1. گل رخوں نے کئے ہیں سیر کا ٹھاٹ

ردیف ج

  1. اپنا جمال مجھ کوں دکھایا رسول آج

ردیف خ

  1. تیرے ابرو کی عجب بیت ہے حالی اے شوخ

ردیف د

  1. خاک ہوں اعتبار کی سوگند
  2. مخمور چشموں کی تبرید کرنے کوں شبنم ہے سرداب شوروں کی مانند
  3. پرخوں ہے جگر لالۂ سیراب کی سوگند
  4. ہم ہیں مشتاق جواب اور تم ہو الفت سیں بعید

ردیف ر

  1. دل ناداں مرا ہے بے تقصیر
  2. ہر ہر ورق پہ کیوں کہ لکھوں داستان ہجر

ردیف ز

  1. ہے جنبش مژگاں میں تری تیر کی آواز

ردیف س

  1. وحشت کو مری دیکھ کہ مجنوں نے کہا بس

ردیف ض

  1. عشاق کا دل داغ کا اندازہ ہوا محض
  2. مائل ہوں گل بدن کا مجھے گل سیں کیا غرض

ردیف ط

  1. وو زلف ہے تو حرف تتار و ختن غلط

ردیف ظ

  1. عمل سیں مے پرستوں کے تجھے کیا کام اے واعظ

ردیف ف

  1. دیکھا ہے جس نے یار کے رخسار کی طرف

ردیف ک

  1. ظالم مرے جگر کوں کرے کیوں نہ پھانک پھانک
  2. سینہ صافی کی ہے جسے عینک

ردیف ل

  1. اے باغ حیا دل کی گرہ کھول سخن بول
  2. مجھ پر اے محرم جاں پردۂ اسرار کوں کھول
  3. ہر کسی کوں گزر عشق میں آناں مشکل
  4. بات کر دل ستی حجاب نکال

ردیف م

  1. صنم ہزار ہوا تو وہی صنم کا صنم
  2. کون کہتا ہے جفا کرتے ہو تم
  3. کافر ہوا ہوں رشتۂ زنار کی قسم
  4. یک نگہ سیں لیا ہے وہ گلفام
  5. شربت وصل پلا جا لب شیریں کی قسم

ردیف ن

  1. یار کو بے حجاب دیکھا ہوں
  2. اے صنم تجھ برہ میں روتا ہوں
  3. صنم خوش طبعیاں سیکھے ہو تم کن کن ظریفوں سیں
  4. مرا دل نہیں ہے میرے ہات تم بن
  5. تمہاری زلف کا ہر تار موہن
  6. کیا بلا کا ہے نشہ عشق کے پیمانے میں
  7. عشق میں آ کہ عقل کوں کھوناں
  8. کیا بلا سحر ہیں سجن کے نین
  9. اشک خونیں ہے شفق آج مری آنکھوں میں
  10. جب سیں تجھ عشق کی گرمی کا اثر ہے من میں
  11. مرا دل آ گیا جھٹ پٹ جھپٹ میں
  12. فجر اٹھ یار کا دیدار کرناں
  13. اس لب کوں کب پسند ہیں رسمی کٹوریاں
  14. تری نگاہ کی انیاں جگر میں سلیاں ہیں
  15. جس دن سیں میں یار بوجھتا ہوں
  16. کیوں ترے گیسو کوں گیسو بولناں
  17. مان مت کر عاشق بے تاب کا ارمان مان
  18. مجھ درد سیں یار آشنا نئیں

ردیف و

  1. کبھی تم مول لینے ہم کوں ہنس ہنس بھاؤ کرتے ہو
  2. پی کر شراب شوق کوں بے ہوش ہو بے ہوش ہو
  3. تجھے کہتا ہوں اے دل عشق کا اظہار مت کیجو
  4. دلبری ہر بوالہوس کی حد سیں افزوں مت کرو

ردیف ہ

  1. غم آہستہ رو یاں رفتہ رفتہ
  2. جلوۂ جاں فزا دکھاتا رہ
  3. بھرا کمال وفا سیں خیال کا شیشہ

ردیف ھ

  1. اے دوست تلطف سیں مرے حال کوں آ دیکھ

ردیف ی

  1. خبر تحیر عشق سن نہ جنوں رہا نہ پری رہی
  2. عالم کے دوستوں میں مروت نہیں رہی
  3. سنے راتوں کوں گر جنگل میں میرے غم کی واویلا
  4. جان جاتا ہے اب تو آ جانی
  5. یارب کہاں گیا ہے وو سرو شوخ رعنا
  6. ہر طرف یار کا تماشا ہے
  7. فدا کر جان اگر جانی یہی ہے
  8. اگر کچھ ہوش ہم رکھتے تو مستانے ہوئے ہوتے
  9. جس کوں تجھ غم سیں دل شگافی ہے
  10. خوب بوجھا ہوں میں اس یار کوں کوئی کیا جانے
  11. زلف مشکین یار قہری ہے
  12. ہجر کی آگ میں عذاب میں نہ دے
  13. یار جب پیش نظر ہوتا ہے
  14. اول سیں دل مرا جو گرفتار تھا سو ہے
  15. تری زلف زنار کا تار ہے
  16. جس کوں پیو کے ہجر کا بیراگ ہے
  17. پیو کے آنے کا وقت آیا ہے
  18. سنو تو خوب ہے ٹک کان دھر میرا سخن پیارے
  19. تجھ پر فدا ہیں سارے حسن و جمال والے
  20. جس کوں درد جگر کی لذت ہے
  21. دل مرا ساغر شکایت ہے
  22. سیماب جل گیا تو اسے گرد بولئے
  23. عشق میں اول فنا درکار ہے
  24. صنم جب چیرۂ زر تار باندھے
  25. مسکرا کر عاشقوں پر مہربانی کیجئے
  26. جس کوں ملک بے خودی کا راج ہے
  27. ہوس کی آنکھ سیں وو چہرۂ روشن نہ دیکھو گے
  28. دل میں خیالات رنگیں گزرتے ہیں جیوں باس پھولوں کے رنگوں میں رہیے
  29. بار تجھ ہجر کا بھاری ہے خدا خیر کرے