غزل
ردیف الف
- دو رنگی خوب نئیں یک رنگ ہو جا
- آیا پیا شراب کا پیالا پیا ہوا
- اغیار چھوڑ مجھ سیں اگر یار ہووے گا
- قد ترا سرو رواں تھا مجھے معلوم نہ تھا
- تھا بہانہ مجھے زنجیر کے ہل جانے کا
- چراغ مہ سیں روشن تر ہے حسن بے مثال اس کا
- جان و دل سیں میں گرفتار ہوں کن کا ان کا
- تری نگاہ تلطف نے فیض عام کیا
- اے دل بے ادب اس یار کی سوگند نہ کھا
- میں نہ جانا تھا کہ تو یوں بے وفا ہو جائے گا
- عشق کی جو لگن نہیں دیکھا
- تیری بھنووں کی تیغ کے جو روبرو ہوا
- دل میں جب آ کے عشق نے تیرے محل کیا
- یار گرم مہربانی ہو گیا
- عشق نے خوں کیا ہے دل جس کا
- ہے دل میں خیال گل رخسار کسی کا
- تجھ زلف کی شکن ہے مانند دام گویا
- غم کی جب سوزش سیں محرم ہووے گا
- جاناں پہ جی نثار ہوا کیا بجا ہوا
- کل سیں بے کل ہے مرا جی یار کوں دیکھا نہ تھا
- نین کی پتلی میں اے سریجن ترا مبارک مقام دستا
- دل دار کی کشش نے اینچا ہے من ہمارا
- دن بدن اب لطف تیرا ہم پہ کم ہونے لگا
- کہاں ہے گل بدن موہن پیارا
- محرم دل ہوا وو صحرا وا
- جس نے تجھ حسن پر نگاہ کیا
- ہوا ہوں ان دنوں مائل کسی کا
- ہماری آنکھوں کی پتلیوں میں ترا مبارک مقام ہے گا
- رشتے میں تری زلف کے ہے جان ہمارا
- جو کچھ کہ تم سیں مجھے بولنا تھا بول چکا
- میرے جگر کے درد کا چارا کب آئے گا
- جو تجھے دیکھ کے مبہوت ہوا
- غم نے باندھا ہے مرے جی پہ کھلا ہائے کھلا
- ہمارا دل بر گلفام آیا
- مجھ سیں غم دست و گریباں نہ ہوا تھا سو ہوا
- سرو گلشن پر سخن اس قد کا بالا ہو گیا
- ہمارے پاس جاناں آن پہنچا
- نقش قدم ہوا ہوں محبت کی راہ کا
- فصل گل کا غم دل ناشاد پر باقی رہا
ردیف ب
ردیف ت
ردیف ٹ
ردیف ج
ردیف خ
ردیف د
- خاک ہوں اعتبار کی سوگند
- مخمور چشموں کی تبرید کرنے کوں شبنم ہے سرداب شوروں کی مانند
- پرخوں ہے جگر لالۂ سیراب کی سوگند
- ہم ہیں مشتاق جواب اور تم ہو الفت سیں بعید
ردیف ر
ردیف ز
ردیف س
ردیف ض
ردیف ط
ردیف ظ
ردیف ف
ردیف ک
ردیف ل
- اے باغ حیا دل کی گرہ کھول سخن بول
- مجھ پر اے محرم جاں پردۂ اسرار کوں کھول
- ہر کسی کوں گزر عشق میں آناں مشکل
- بات کر دل ستی حجاب نکال
ردیف م
- صنم ہزار ہوا تو وہی صنم کا صنم
- کون کہتا ہے جفا کرتے ہو تم
- کافر ہوا ہوں رشتۂ زنار کی قسم
- یک نگہ سیں لیا ہے وہ گلفام
- شربت وصل پلا جا لب شیریں کی قسم
ردیف ن
- یار کو بے حجاب دیکھا ہوں
- اے صنم تجھ برہ میں روتا ہوں
- صنم خوش طبعیاں سیکھے ہو تم کن کن ظریفوں سیں
- مرا دل نہیں ہے میرے ہات تم بن
- تمہاری زلف کا ہر تار موہن
- کیا بلا کا ہے نشہ عشق کے پیمانے میں
- عشق میں آ کہ عقل کوں کھوناں
- کیا بلا سحر ہیں سجن کے نین
- اشک خونیں ہے شفق آج مری آنکھوں میں
- جب سیں تجھ عشق کی گرمی کا اثر ہے من میں
- مرا دل آ گیا جھٹ پٹ جھپٹ میں
- فجر اٹھ یار کا دیدار کرناں
- اس لب کوں کب پسند ہیں رسمی کٹوریاں
- تری نگاہ کی انیاں جگر میں سلیاں ہیں
- جس دن سیں میں یار بوجھتا ہوں
- کیوں ترے گیسو کوں گیسو بولناں
- مان مت کر عاشق بے تاب کا ارمان مان
- مجھ درد سیں یار آشنا نئیں
ردیف و
- کبھی تم مول لینے ہم کوں ہنس ہنس بھاؤ کرتے ہو
- پی کر شراب شوق کوں بے ہوش ہو بے ہوش ہو
- تجھے کہتا ہوں اے دل عشق کا اظہار مت کیجو
- دلبری ہر بوالہوس کی حد سیں افزوں مت کرو
ردیف ہ
ردیف ھ
ردیف ی
- خبر تحیر عشق سن نہ جنوں رہا نہ پری رہی
- عالم کے دوستوں میں مروت نہیں رہی
- سنے راتوں کوں گر جنگل میں میرے غم کی واویلا
- جان جاتا ہے اب تو آ جانی
- یارب کہاں گیا ہے وو سرو شوخ رعنا
- ہر طرف یار کا تماشا ہے
- فدا کر جان اگر جانی یہی ہے
- اگر کچھ ہوش ہم رکھتے تو مستانے ہوئے ہوتے
- جس کوں تجھ غم سیں دل شگافی ہے
- خوب بوجھا ہوں میں اس یار کوں کوئی کیا جانے
- زلف مشکین یار قہری ہے
- ہجر کی آگ میں عذاب میں نہ دے
- یار جب پیش نظر ہوتا ہے
- اول سیں دل مرا جو گرفتار تھا سو ہے
- تری زلف زنار کا تار ہے
- جس کوں پیو کے ہجر کا بیراگ ہے
- پیو کے آنے کا وقت آیا ہے
- سنو تو خوب ہے ٹک کان دھر میرا سخن پیارے
- تجھ پر فدا ہیں سارے حسن و جمال والے
- جس کوں درد جگر کی لذت ہے
- دل مرا ساغر شکایت ہے
- سیماب جل گیا تو اسے گرد بولئے
- عشق میں اول فنا درکار ہے
- صنم جب چیرۂ زر تار باندھے
- مسکرا کر عاشقوں پر مہربانی کیجئے
- جس کوں ملک بے خودی کا راج ہے
- ہوس کی آنکھ سیں وو چہرۂ روشن نہ دیکھو گے
- دل میں خیالات رنگیں گزرتے ہیں جیوں باس پھولوں کے رنگوں میں رہیے
- بار تجھ ہجر کا بھاری ہے خدا خیر کرے