مان مت کر عاشق بے تاب کا ارمان مان

غیر مردف

مان مت کر عاشق بے تاب کا ارمان مان

جان کر انجان مت ہو مج کوں تو بے جان جان

فکر اپنی نہیں مجھے ہے اس کی بد نامی کا خوف

مجھ کوں نام و ننگ کی ہے ہر گھڑی ہر آن آن

تیر و خنجر میں نہیں ہے آب داری اس قدر

تجھ نگہ کی دیکھ کر جلدی ہوا قربان بان

دشت وحشت میں نپٹ بے کس ہوں اے آہو نگہ

ہوں بھکاری وصل کا دے مج کوں اس میدان دان

قتل کرنے پر ترے ہے تیغ بر کف وو صنم

سرکشی مت کر سراجؔ اب جان کا فرمان مان

ماخذ: ویکی ماخذ · سراج اورنگ آبادی