تجھے کہتا ہوں اے دل عشق کا اظہار مت کیجو

ردیف: مت کیجو

تجھے کہتا ہوں اے دل عشق کا اظہار مت کیجو

خموشی کے مکاں میں بات اور گفتار مت کیجو

محبت میں دل و جاں ہوش و طاقت سب اکارت ہے

کہو کوئی عقل کوں جا کر بڑا بستار مت کیجو

عوض نقد دعا کے مفت ہے دشنام اس لب سیں

ارے دل عشق کے سودے میں پھر تکرار مت کیجو

اسے اونچا ہے ظالم دام نے تجھ مہربانی کے

ہمارے صید دل اوپر ستم کا وار مت کیجو

اگر خواہش ہے تجھ کوں اے سراجؔ آزاد ہونے کی

کمند عقل کوں ہرگز گلے کا ہار مت کیجو

ماخذ: ویکی ماخذ · سراج اورنگ آبادی