ادائے دل فریب سرو قامت

غیر مردف

ادائے دل فریب سرو قامت

قیامت ہے قیامت ہے قیامت

شہید خنجر الفت موا نہیں

سلامت ہے سلامت ہے سلامت

نہ کرنا جی کوں قرباں تجھ قدم پر

ندامت ہے ندامت ہے ندامت

جماعت میں پری رویوں کی تجھ کوں

امامت ہے امامت ہے امامت

سراجؔ اب عیش کے گلشن کا پانی

ملامت ہے ملامت ہے ملامت

ماخذ: ویکی ماخذ · سراج اورنگ آبادی