دیوان عاجز (۱۹۳۴)

ردیف الف

  1. ہوا پیری میں عشق اس نوجواں کا
  2. نہ تنہا میں ہی دم بھرتا ہوں تیری آشنائی کا
  3. واہ کیا خوب مہ لقا دیکھا
  4. وہ برق جلوہ دکھائے جمال اگر اپنا
  5. ہے عجب کچھ معاملہ دل کا

ردیف ت

  1. زانو پر اس کے رات رہا سر تمام رات

ردیف ن

  1. سب کو الجھائے ہوئے ہے زلف پیچاں ان دنوں

ردیف و

  1. ناز ہے مشق جفا پر اس ستم ایجاد کو
  2. چاہئے پرہیز گردش چشم شوخ یار کو

ردیف ی

  1. مر کر بھی ہے تلاش مجھے کوئے یار کی
  2. ارے او بے مروت تو کہاں ہے
  3. حوصلے کیوں نہ دل چرخ کہن کے نکلے