ارے او بے مروت تو کہاں ہے

ردیف: ہے

ارے او بے مروت تو کہاں ہے

تڑپتا ہجر میں یہ ناتواں ہے

مریض عشق کی تو لے خبر جلد

کہ وہ اب کوئی دم کا میہماں ہے

بتوں میں سنگ دل ہے کون تجھ سا

تری سنگیں دلی سب پر عیاں ہے

یہ سن کر حال میرا ہنس کے بولا

عیادت کی مجھے فرصت کہاں ہے

بتوں کو نرم دل دیکھا ہے کس نے

سنو سنگیں دلی وصف بتاں ہے

نہ آیا زندگانی میں جو وہ شوخ

کہ مرتا ہوں دم نزع رواں ہے

تو پھر وہ آ چکا میری لحد پر

یہی جب حال دور آسماں ہے

فنا ہے غیر حق کو عاجزؔ زار

بقا وصف خدائے دو جہاں ہے

ماخذ: ویکی ماخذ · ابراہیم عاجز