واہ کیا خوب مہ لقا دیکھا

ردیف: دیکھا

واہ کیا خوب مہ لقا دیکھا

جلوہ اس کا ہر ایک جا دیکھا

وہ عیاں تھا تو شے نہیں دیکھا

جب ہوئی شے عیاں تو کیا دیکھا

وحدت صرف آئی کثرت میں

پردہ اس پر پڑا ہوا دیکھا

دیر میں ہے نہ وہ حرم میں ہے

لیکن اس کو ہر ایک جا دیکھا

سر کہا جس نے سر گیا اس کا

عارفوں نے یہ آزما دیکھا

بحر کوزے میں کب سماتا ہے

عقل کا تنگ حوصلہ دیکھا

دید ہے جس کی عین بینائی

نہیں دیکھا اسے تو کیا دیکھا

ابن مریم سے بھی تو کچھ نہ ہوا

درد دل ہائے لا دوا دیکھا

بادشاہی میں وہ کہاں حاصل

فقر میں ہم نے جو مزا دیکھا

بلبل خوش نوا کو اے عاجزؔ

گل و گلزار سے جدا دیکھا

ماخذ: ویکی ماخذ · ابراہیم عاجز