نہ تنہا میں ہی دم بھرتا ہوں تیری آشنائی کا

ردیف: کا

نہ تنہا میں ہی دم بھرتا ہوں تیری آشنائی کا

جہاں میں شور ہے اے شوخ تیری دلربائی کا

جبین مہر و مہ میں کیا سبب اتنی صفائی کا

انہیں بھی شغل ہے کیا تیرے در پر جبہ سائی کا

لہو کی ندیاں ایام فرقت میں بہاتا ہوں

خیال آتا ہے جب مجھ کو ترے دست حنائی کا

وفا کی ہو کسی کو تجھ سے کیا امید او ظالم

کہ اک عالم ہے کشتہ تیری طرز بے وفائی کا

یہی رہ رہ کے آتا ہے ہمارے دل میں اے عاجزؔ

حسینوں کے دروں پر کیجئے پیشہ گدائی کا

ماخذ: ویکی ماخذ · ابراہیم عاجز