ہے عجب کچھ معاملہ دل کا
ردیف: دل کا
ہے عجب کچھ معاملہ دل کا
کبھی نکلا نہ حوصلہ دل کا
تیری الفت کی راہ میں اے شوخ
لٹ گیا ہائے قافلہ دل کا
رشتۂ عشق جا ملاتا جا
تیری زلفوں سے سلسلہ دل کا
کیا بتاؤں کہ سامنے ان کے
زور کچھ بھی نہیں چلا دل کا
وصل کی شب نہ تم ملے کھل کر
رہ گیا دل میں ولولہ دل کا
ہر قدم پر شکست ہے واللہ
عشق سے کیا مقابلہ دل کا
جان دوں گا طلب میں اے عاجزؔ
آخری ہے یہ فیصلہ دل کا