ناز ہے مشق جفا پر اس ستم ایجاد کو

ردیف: کو

ناز ہے مشق جفا پر اس ستم ایجاد کو

کب کرے گا شاد میری خاطر ناشاد کو

کس طرح کا سم قاتل ہے یہ شربت عشق کا

جان شیریں زہر آخر ہو گئی فرہاد کو

رحم جب کرتا نہیں نالوں سے پھر کیا فائدہ

درد مندی بلبل نالاں سے کیا صیاد کو

کیسے وہ خوش فہم ہیں پتھر پڑے اس فہم پر

جو جہان آباد سمجھے اس خراب آباد کو

اک تعلق سے ہزاروں رنج ہوتے ہیں نصیب

فکر کرتے کس نے دیکھا ہے کسی آزاد کو

جانتے ہیں جزو ہے ایمان کا حب وطن

بے طرح بھولے وطن ہیں کیا ہوا استاد کو

نالہ و زاری میں اے عاجزؔ تو کیوں مصروف ہے

کون سنتا ہے ارے ناداں تری فریاد کو

ماخذ: ویکی ماخذ · ابراہیم عاجز