رباعی

  1. اس قوم کو یک دلی کی رغبت ہی نہیں
  2. علم و حکمت میں ہو اگر خواہش فیم
  3. بہتر ہے یہی کہ اب علی گڑھ چلئے
  4. مسکین گدا ہو یا ہو شاہ ذی جاہ
  5. غفلت کی ہنسی سے آہ بھرنا اچھا
  6. ہے حرص و ہوس کے فن کی مجھ کو تکمیل
  7. جو حسرت دل ہے وہ نکلنے کی نہیں
  8. افسوس سفید ہو گئے بال ترے
  9. ہمدرد ہوں سب یہ لطف آبادی ہے
  10. کہہ دو کہ میں خوش ہوں رکھوں گر آپ کو خوش
  11. اب تک جو کہیں ہماری قسمت نہ لڑی
  12. سید صاحب سکھا گئے ہیں جو شعور
  13. دلکش نہیں وہ حسیں جسے شرم نہیں
  14. لفظوں کے چمن بھی اس میں کھل جاتے ہیں
  15. روزی مل جائے مال و دولت نہ سہی
  16. تدبیر کریں تو اس میں ناکامی ہو
  17. اعزاز سلف کے مٹتے جاتے ہیں نشاں
  18. افسوس ہے بد گماں کی آزادی پر
  19. لذت چاہو تو وصل معشوق کہاں
  20. شیطان سے دل کو ربط ہو جاتا ہے
  21. بھائے جو نگاہ کو وہی رنگ اچھا
  22. رکتا نہیں انقلاب چارا کیا ہے
  23. وہ لطف اب ہندو مسلماں میں کہاں
  24. جب تک ہے ہم میں قومی خصلت باقی
  25. الفت نہ ہو شیخ کی تو عزت ہی سہی
  26. ہر ایک کو نوکری نہیں ملنے کی
  27. پابند اگرچہ اپنی خواہش کے رہو
  28. دنیا کرتی ہے آدمی کو برباد
  29. ہے صاف عیاں حرم سرا کا مطلب
  30. تکمیل میں ان علوم کے ہو مصروف
  31. حاسد تجھ پر اگر حسد کرتا ہے
  32. اکبرؔ مجھے شک نہیں تیری تیزی میں
  33. رسوا وہ ہوا جو مست پیمانہ ہوا
  34. طاقت وہ ہے با اثر جو سلطانی ہے
  35. لے لے کے قلم کے لوگ بھالے نکلے
  36. دنیا سے میل کی ضرورت ہی نہیں
  37. کیا تم سے کہیں جہاں کو کیسا پایا
  38. رکھو جو مقابل اس کے سارا عالم
  39. سنتا نہیں کچھ کسی سے بڑھ بڑھ کے سوا
  40. کہتا ہوں تو تہمت حسد ہوتی ہے
  41. بھولتا جاتا ہے یورپ آسمانی باپ کو
  42. در پر مظلوم اک پڑا روتا ہے
  43. افسوس ان پر فلک نے پایا قابو
  44. اسمال نہیں گریٹ ہونا اچھا
  45. سچ ہے کہ انہوں نے ملک لے رکھا ہے
  46. یہ بات غلط کہ دار الاسلام ہے ہند
  47. ہر ایک سے سنا نیا فسانہ ہم نے
  48. دولت بھی ہے فلسفہ بھی ہے جاہ بھی ہے
  49. عاشق کا خیال ہے بہت نیک معاش