رباعی
- اس قوم کو یک دلی کی رغبت ہی نہیں
- علم و حکمت میں ہو اگر خواہش فیم
- بہتر ہے یہی کہ اب علی گڑھ چلئے
- مسکین گدا ہو یا ہو شاہ ذی جاہ
- غفلت کی ہنسی سے آہ بھرنا اچھا
- ہے حرص و ہوس کے فن کی مجھ کو تکمیل
- جو حسرت دل ہے وہ نکلنے کی نہیں
- افسوس سفید ہو گئے بال ترے
- ہمدرد ہوں سب یہ لطف آبادی ہے
- کہہ دو کہ میں خوش ہوں رکھوں گر آپ کو خوش
- اب تک جو کہیں ہماری قسمت نہ لڑی
- سید صاحب سکھا گئے ہیں جو شعور
- دلکش نہیں وہ حسیں جسے شرم نہیں
- لفظوں کے چمن بھی اس میں کھل جاتے ہیں
- روزی مل جائے مال و دولت نہ سہی
- تدبیر کریں تو اس میں ناکامی ہو
- اعزاز سلف کے مٹتے جاتے ہیں نشاں
- افسوس ہے بد گماں کی آزادی پر
- لذت چاہو تو وصل معشوق کہاں
- شیطان سے دل کو ربط ہو جاتا ہے
- بھائے جو نگاہ کو وہی رنگ اچھا
- رکتا نہیں انقلاب چارا کیا ہے
- وہ لطف اب ہندو مسلماں میں کہاں
- جب تک ہے ہم میں قومی خصلت باقی
- الفت نہ ہو شیخ کی تو عزت ہی سہی
- ہر ایک کو نوکری نہیں ملنے کی
- پابند اگرچہ اپنی خواہش کے رہو
- دنیا کرتی ہے آدمی کو برباد
- ہے صاف عیاں حرم سرا کا مطلب
- تکمیل میں ان علوم کے ہو مصروف
- حاسد تجھ پر اگر حسد کرتا ہے
- اکبرؔ مجھے شک نہیں تیری تیزی میں
- رسوا وہ ہوا جو مست پیمانہ ہوا
- طاقت وہ ہے با اثر جو سلطانی ہے
- لے لے کے قلم کے لوگ بھالے نکلے
- دنیا سے میل کی ضرورت ہی نہیں
- کیا تم سے کہیں جہاں کو کیسا پایا
- رکھو جو مقابل اس کے سارا عالم
- سنتا نہیں کچھ کسی سے بڑھ بڑھ کے سوا
- کہتا ہوں تو تہمت حسد ہوتی ہے
- بھولتا جاتا ہے یورپ آسمانی باپ کو
- در پر مظلوم اک پڑا روتا ہے
- افسوس ان پر فلک نے پایا قابو
- اسمال نہیں گریٹ ہونا اچھا
- سچ ہے کہ انہوں نے ملک لے رکھا ہے
- یہ بات غلط کہ دار الاسلام ہے ہند
- ہر ایک سے سنا نیا فسانہ ہم نے
- دولت بھی ہے فلسفہ بھی ہے جاہ بھی ہے
- عاشق کا خیال ہے بہت نیک معاش