تدبیر کریں تو اس میں ناکامی ہو
تدبیر کریں تو اس میں ناکامی ہو
تقدیر کا نام لیں تو بد نامی ہو
القصہ عجیب ضیق میں ہیں ہندی
یورپ کا خدا کہاں پر جو حامی ہو
تدبیر کریں تو اس میں ناکامی ہو
تقدیر کا نام لیں تو بد نامی ہو
القصہ عجیب ضیق میں ہیں ہندی
یورپ کا خدا کہاں پر جو حامی ہو
ماخذ: ویکی ماخذ · اکبر الہ آبادی