اکبر الہ آبادی

۱۲۶۲ – ۱۳۴۰ ھ · ۱۸۴۶ – ۱۹۲۱ ء

الہٰ آباد کے قریب ایک گاؤں میں پیدا ہوئے۔ آپ کا اصل نام سید اکبر حسین رضوی تھا اور تخلص اکبر۔ آپ ۱۶ نومبر۱۸۴۶ء میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم سرکاری مدارس میں پائی اور محکمہ تعمیرات میں ملازم ہو گئے۔ ۱۸۶۹ء میں مختاری کا امتحان پاس کرکے نائب تحصیلدار ہوئے۔ ۱۸۷۰ء میں ہائی کورٹ کی مسل خوانی کی جگہ ملی۔ ۱۸۷۲ء میں وکالت کا امتحان پاس کیا۔ ۱۸۸۰ء تک وکالت کرتے رہے۔ پھر منصف مقرر ہوئے۔ ۱۸۹۴ء میں عدالت خفیفہ کے جج ہو گئے۔ ۱۸۹۸ء میں خان بہادر کا خطاب ملا۔ ۱۹۰۳ء میں ملازمت سے سبکدوش ہو گئے۔ انھوں نے جنگ آزادی ہند ۱۸۵۷ء، پہلی جنگ عظیم اور گاندھی کی امن تحریک کا ابتدائی حصہ دیکھا تھا۔ فن شعر و سخن میں وحید الہ آبادی سے اصلاح لی، جاننا چاہیے کہ اکبر الہ آبادی اور شاہ اکبر داناپوری دونوں ہم سبق ہیں، ایک ہی استاد وحید الہ آبادی کے شاگرد اور ایک ہی پیر حضرت مولانا شاہ قاسم ابوالعلائی داناپوری کے مرید تھے اور حضرت قاسم شاہ اکبر داناپوری کے چچا اور پیر و مرشد تھے۔ شاہ اکبر داناپوری اپنی رباعی میں اس کا ذکر کرتے ہیں شاگرد وحید کے ہیں دونوں اکبر ہم مشق بھی دونوں رہے ہیں اکثر لیکن قدرت کا صاد ان پر ہی ہوا پتھر پتھر ہے اور جوہر جوہر (جذبات اکبر) اسی طرح اکبر الہ آبادی کا ایک خط شاہ اکبر داناپوری کے نام ملتا ہے جو کتاب نذر محبوب میں درج ہے۔ اکبر الہ آبادی نے اپنا الگ رنگ پیدا کیا۔ ان کی شہرت ظرافت آمیز اور طنزیہ اشعار پر مبنی ہے۔ مشرقیت کے دلدادہ اور مغربی تہذیب کی کورانہ تقلید کے سخت خلاف تھے۔ مغرب زدہ طبقے کو طنز و مزاح کی چٹکیاں لے کر راہ راست پر لانے کی کوشش کرتے تھے۔ کلام میں مس، سید، اونٹ، کالج، گانے، کلیسا، برہمن، جمن، بدھو میاں مخصوص اصطلاحیں اور علامتیں ہیں۔ مخزن لاہور نے انھیں لسان العصر خطاب دیا۔ مبطوعہ کلام تین کلیات پر مشتمل ہے۔ دو ان کی زندگی میں شائع ہو گئے تھے۔ تیسرا انتقال کے بعد شائع ہوا۔ ھڈھھدھر

تصویر: Public domain · ویکی میڈیا کامنز

غزل۷۰نظم۸رباعی۴۹قطعہ۱۶مخمس۱مزاحیہ۲ای بکس