غزل

ردیف الف

  1. غمزہ نہیں ہوتا کہ اشارا نہیں ہوتا
  2. دل مرا جس سے بہلتا کوئی ایسا نہ ملا
  3. حال دل میں سنا نہیں سکتا
  4. حیا سے سر جھکا لینا ادا سے مسکرا دینا
  5. جہاں میں حال مرا اس قدر زبون ہوا
  6. عشق بت میں کفر کا مجھ کو ادب کرنا پڑا
  7. اگر دل واقف نیرنگیٔ طبع صنم ہوتا
  8. ہوائے شب بھی ہے عنبر افشاں عروج بھی ہے مہ مبیں کا
  9. نہ حاصل ہوا صبر و آرام دل کا
  10. طریق عشق میں مجھ کو کوئی کامل نہیں ملتا
  11. جب یاس ہوئی تو آہوں نے سینے سے نکلنا چھوڑ دیا
  12. جو تمہارے لب جاں بخش کا شیدا ہوگا
  13. تم نے بیمار محبت کو ابھی کیا دیکھا
  14. جلوہ عیاں ہے قدرت پروردگار کا
  15. یہ سست ہے تو پھر کیا وہ تیز ہے تو پھر کیا
  16. مہربانی ہے عیادت کو جو آتے ہیں مگر
  17. یوں مری طبع سے ہوتے ہیں معانی پیدا
  18. روشن دل عارف سے فزوں ہے بدن ان کا

ردیف ف

  1. انہیں نگاہ ہے اپنے جمال ہی کی طرف
  2. مذہب کا ہو کیوں کر علم و عمل دل ہی نہیں بھائی ایک طرف

ردیف ک

  1. بٹھائی جائیں گی پردے میں بیبیاں کب تک
  2. کیا جانیے سید تھے حق آگاہ کہاں تک

ردیف گ

  1. مل گیا شرع سے شراب کا رنگ

ردیف ن

  1. دنیا میں ہوں دنیا کا طلب گار نہیں ہوں
  2. چرخ سے کچھ امید تھی ہی نہیں
  3. فلسفی کو بحث کے اندر خدا ملتا نہیں
  4. گلے لگائیں کریں پیار تم کو عید کے دن
  5. سانس لیتے ہوئے بھی ڈرتا ہوں
  6. دل مایوس میں وہ شورشیں برپا نہیں ہوتیں
  7. ہر اک یہ کہتا ہے اب کار دیں تو کچھ بھی نہیں
  8. وزن اب ان کا معین نہیں ہو سکتا کچھ
  9. حرم کیا دیر کیا دونوں یہ ویراں ہوتے جاتے ہیں

ردیف و

  1. ہوں میں پروانہ مگر شمع تو ہو رات تو ہو
  2. درد تو موجود ہے دل میں دوا ہو یا نہ ہو
  3. لطف چاہو اک بت نوخیز کو راضی کرو

ردیف ھ

  1. میری تقدیر موافق نہ تھی تدبیر کے ساتھ

ردیف ی

  1. آہ جو دل سے نکالی جائے گی
  2. بہت رہا ہے کبھی لطف یار ہم پر بھی
  3. پھر گئی آپ کی دو دن میں طبیعت کیسی
  4. نہ روح مذہب نہ قلب عارف نہ شاعرانہ زبان باقی
  5. رنگ شراب سے مری نیت بدل گئی
  6. شیخ نے ناقوس کے سر میں جو خود ہی تان لی
  7. ختم کیا صبا نے رقص گل پہ نثار ہو چکی
  8. دشت غربت ہے علالت بھی ہے تنہائی بھی
  9. صدیوں فلاسفی کی چناں اور چنیں رہی
  10. حسینوں کے گلے سے لگتی ہے زنجیر سونے کی
  11. نئی تہذیب سے ساقی نے ایسی گرم جوشی کی
  12. ہنگامہ ہے کیوں برپا تھوڑی سی جو پی لی ہے
  13. آنکھیں مجھے تلووں سے وہ ملنے نہیں دیتے
  14. اپنے پہلو سے وہ غیروں کو اٹھا ہی نہ سکے
  15. وہ ہوا نہ رہی وہ چمن نہ رہا وہ گلی نہ رہی وہ حسیں نہ رہے
  16. اک بوسہ دیجئے مرا ایمان لیجئے
  17. آج آرائش گیسوئے دوتا ہوتی ہے
  18. ضد ہے انہیں پورا مرا ارماں نہ کریں گے
  19. ہر قدم کہتا ہے تو آیا ہے جانے کے لیے
  20. امید ٹوٹی ہوئی ہے میری جو دل مرا تھا وہ مر چکا ہے
  21. کہاں وہ اب لطف باہمی ہے محبتوں میں بہت کمی ہے
  22. بے تکلف بوسۂ زلف چلےپا لیجئے
  23. اپنی گرہ سے کچھ نہ مجھے آپ دیجئے
  24. خوشی ہے سب کو کہ آپریشن میں خوب نشتر یہ چل رہا ہے
  25. جذبۂ دل نے مرے تاثیر دکھلائی تو ہے
  26. نہ بہتے اشک تو تاثیر میں سوا ہوتے
  27. تری زلفوں میں دل الجھا ہوا ہے
  28. خدا علی گڑھ کی مدرسے کو تمام امراض سے شفا دے
  29. معنی کو بھلا دیتی ہے صورت ہے تو یہ ہے
  30. دل ہو خراب دین پہ جو کچھ اثر پڑے
  31. حلقے نہیں ہیں زلف کے حلقے ہیں جال کے
  32. خوشی کیا ہو جو میری بات وہ بت مان جاتا ہے
  33. کیا ہی رہ رہ کے طبیعت مری گھبراتی ہے
  34. میرے حواس عشق میں کیا کم ہیں منتشر