غزل
ردیف الف
- غمزہ نہیں ہوتا کہ اشارا نہیں ہوتا
- دل مرا جس سے بہلتا کوئی ایسا نہ ملا
- حال دل میں سنا نہیں سکتا
- حیا سے سر جھکا لینا ادا سے مسکرا دینا
- جہاں میں حال مرا اس قدر زبون ہوا
- عشق بت میں کفر کا مجھ کو ادب کرنا پڑا
- اگر دل واقف نیرنگیٔ طبع صنم ہوتا
- ہوائے شب بھی ہے عنبر افشاں عروج بھی ہے مہ مبیں کا
- نہ حاصل ہوا صبر و آرام دل کا
- طریق عشق میں مجھ کو کوئی کامل نہیں ملتا
- جب یاس ہوئی تو آہوں نے سینے سے نکلنا چھوڑ دیا
- جو تمہارے لب جاں بخش کا شیدا ہوگا
- تم نے بیمار محبت کو ابھی کیا دیکھا
- جلوہ عیاں ہے قدرت پروردگار کا
- یہ سست ہے تو پھر کیا وہ تیز ہے تو پھر کیا
- مہربانی ہے عیادت کو جو آتے ہیں مگر
- یوں مری طبع سے ہوتے ہیں معانی پیدا
- روشن دل عارف سے فزوں ہے بدن ان کا
ردیف ف
ردیف ک
ردیف گ
ردیف ن
- دنیا میں ہوں دنیا کا طلب گار نہیں ہوں
- چرخ سے کچھ امید تھی ہی نہیں
- فلسفی کو بحث کے اندر خدا ملتا نہیں
- گلے لگائیں کریں پیار تم کو عید کے دن
- سانس لیتے ہوئے بھی ڈرتا ہوں
- دل مایوس میں وہ شورشیں برپا نہیں ہوتیں
- ہر اک یہ کہتا ہے اب کار دیں تو کچھ بھی نہیں
- وزن اب ان کا معین نہیں ہو سکتا کچھ
- حرم کیا دیر کیا دونوں یہ ویراں ہوتے جاتے ہیں
ردیف و
- ہوں میں پروانہ مگر شمع تو ہو رات تو ہو
- درد تو موجود ہے دل میں دوا ہو یا نہ ہو
- لطف چاہو اک بت نوخیز کو راضی کرو
ردیف ھ
ردیف ی
- آہ جو دل سے نکالی جائے گی
- بہت رہا ہے کبھی لطف یار ہم پر بھی
- پھر گئی آپ کی دو دن میں طبیعت کیسی
- نہ روح مذہب نہ قلب عارف نہ شاعرانہ زبان باقی
- رنگ شراب سے مری نیت بدل گئی
- شیخ نے ناقوس کے سر میں جو خود ہی تان لی
- ختم کیا صبا نے رقص گل پہ نثار ہو چکی
- دشت غربت ہے علالت بھی ہے تنہائی بھی
- صدیوں فلاسفی کی چناں اور چنیں رہی
- حسینوں کے گلے سے لگتی ہے زنجیر سونے کی
- نئی تہذیب سے ساقی نے ایسی گرم جوشی کی
- ہنگامہ ہے کیوں برپا تھوڑی سی جو پی لی ہے
- آنکھیں مجھے تلووں سے وہ ملنے نہیں دیتے
- اپنے پہلو سے وہ غیروں کو اٹھا ہی نہ سکے
- وہ ہوا نہ رہی وہ چمن نہ رہا وہ گلی نہ رہی وہ حسیں نہ رہے
- اک بوسہ دیجئے مرا ایمان لیجئے
- آج آرائش گیسوئے دوتا ہوتی ہے
- ضد ہے انہیں پورا مرا ارماں نہ کریں گے
- ہر قدم کہتا ہے تو آیا ہے جانے کے لیے
- امید ٹوٹی ہوئی ہے میری جو دل مرا تھا وہ مر چکا ہے
- کہاں وہ اب لطف باہمی ہے محبتوں میں بہت کمی ہے
- بے تکلف بوسۂ زلف چلےپا لیجئے
- اپنی گرہ سے کچھ نہ مجھے آپ دیجئے
- خوشی ہے سب کو کہ آپریشن میں خوب نشتر یہ چل رہا ہے
- جذبۂ دل نے مرے تاثیر دکھلائی تو ہے
- نہ بہتے اشک تو تاثیر میں سوا ہوتے
- تری زلفوں میں دل الجھا ہوا ہے
- خدا علی گڑھ کی مدرسے کو تمام امراض سے شفا دے
- معنی کو بھلا دیتی ہے صورت ہے تو یہ ہے
- دل ہو خراب دین پہ جو کچھ اثر پڑے
- حلقے نہیں ہیں زلف کے حلقے ہیں جال کے
- خوشی کیا ہو جو میری بات وہ بت مان جاتا ہے
- کیا ہی رہ رہ کے طبیعت مری گھبراتی ہے
- میرے حواس عشق میں کیا کم ہیں منتشر