کہتا ہوں تو تہمت حسد ہوتی ہے
کہتا ہوں تو تہمت حسد ہوتی ہے
خاموشی میں دل کو سخت کد ہوتی ہے
دنیا طلبی ضرور ہے انساں کو
لیکن ہر شے کی ایک حد ہوتی ہے
کہتا ہوں تو تہمت حسد ہوتی ہے
خاموشی میں دل کو سخت کد ہوتی ہے
دنیا طلبی ضرور ہے انساں کو
لیکن ہر شے کی ایک حد ہوتی ہے
ماخذ: ویکی ماخذ · اکبر الہ آبادی