رباعی
- یاد آتی ہیں جب ہمیں وہ پہلی چاہیں
- اس زلف نے ہم سے لے کے دل بستہ کیا
- اس شوخ کو ہم نے جس گھڑی جا دیکھا
- ساقی سے جو ہم نے مے کا اک جام لیا
- رکھتی ہے جو خوش چاہ تمہاری ہم کو
- رکھتے ہیں جو ہم چاہ تمہاری دل میں
- پس اس کے گئے سپر جو ہم کر سینہ
- پان اس کے لبوں پہ اس قدر ہے زیبا
- ناصح نہ سنا سخن مجھے جس تس کے
- مکھڑے کو جو اس کے ہم نے جا کر دیکھا
- محبوب نے پیرہن میں جب عطر ملا
- کیا حال اب اس سے اپنے دل کا کہئے
- کوچے میں تمہارے ہم جو ٹک آتے ہیں
- ہم اس کی جفا سے جی میں ہو کر دلگیر
- ہم دل سے جو چاہتے ہیں اے جان تمہیں
- ہم دیکھ کے تم سے رخ آرام میاں
- ہوں کیوں نہ بتوں کی ہم کو دل سے چاہیں
- ہے چاہ نے اس کی جب سے کی جا دل میں
- گر یار سے ہر روز ملاقات نہیں
- دل دیکھ اسے جس گھڑی بے تاب ہوا
- اے دل جو یہ آنکھ آج لڑائی اس نے
- آئینہ جو ہاتھ اس کے نے تا دیر لیا