ہم اس کی جفا سے جی میں ہو کر دلگیر
ہم اس کی جفا سے جی میں ہو کر دلگیر
رک بیٹھے تو ہیں ولے کریں کیا تقریر
دل ہاتھ سے جاتا ہے بغیر اس سے ملے
اب جو نہ پڑیں پاؤں تو پھر کیا تدبیر
ہم اس کی جفا سے جی میں ہو کر دلگیر
رک بیٹھے تو ہیں ولے کریں کیا تقریر
دل ہاتھ سے جاتا ہے بغیر اس سے ملے
اب جو نہ پڑیں پاؤں تو پھر کیا تدبیر
ماخذ: ویکی ماخذ · نظیر اکبر آبادی