اے دل جو یہ آنکھ آج لڑائی اس نے
اے دل جو یہ آنکھ آج لڑائی اس نے
اور پل میں لڑا کے پھر جھکائی اس نے
اپنی بے باکی اور حیا کی خوبی
تھی ہم کو دکھانی سو دکھائی اس نے
اے دل جو یہ آنکھ آج لڑائی اس نے
اور پل میں لڑا کے پھر جھکائی اس نے
اپنی بے باکی اور حیا کی خوبی
تھی ہم کو دکھانی سو دکھائی اس نے
ماخذ: ویکی ماخذ · نظیر اکبر آبادی