دل دیکھ اسے جس گھڑی بے تاب ہوا

دل دیکھ اسے جس گھڑی بے تاب ہوا

اور چاہ ذقن سے مثل گرداب ہوا

کی عرض کہ بے قرار دل ہے تو کہا

اب دل نہ کہو اسے جو سیماب ہوا

ماخذ: ویکی ماخذ · نظیر اکبر آبادی