یاد آتی ہیں جب ہمیں وہ پہلی چاہیں
یاد آتی ہیں جب ہمیں وہ پہلی چاہیں
افسوس کرے ہے دل میں کیا کیا راہیں
تھے شور جو قہقہ کے سو ان کے بدلے
اب شور مچا رہی ہیں جی میں آہیں
یاد آتی ہیں جب ہمیں وہ پہلی چاہیں
افسوس کرے ہے دل میں کیا کیا راہیں
تھے شور جو قہقہ کے سو ان کے بدلے
اب شور مچا رہی ہیں جی میں آہیں
ماخذ: ویکی ماخذ · نظیر اکبر آبادی