بانگ درا (۱۹۲۴)
- دیباچہ
- ہمالہ
- گُلِ رنگیں
- عہدِ طفلی
- مرزا غالِب
- ابرِ کوہسار
- ایک مکڑا اور مکھّی
- ایک پہاڑ اور گلہری
- ایک گائے اور بکری
- بچے کی دُعا
- ہمدردی
- ماں کا خواب
- پرندے کی فریاد
- خُفتگانِ خاک سے استفسار
- شمع و پروانہ
- عقل و دِل (عقل نے ایک دن یہ دل سے کہا)
- صدائے درد
- آفتاب
- شمع
- ایک آرزو
- آفتابِ صبح
- درد عشق
- گُل پژمردہ
- سیّدکی لوحِ تُربت
- ماہِ نَو
- اِنسان اور بزمِ قُد رت
- پیامِ صبح
- عشق اور موت
- زُہد اور رندی
- شاعر (قوم گویا جسم ہے، افراد ہیں اعضائے قوم)
- دل
- موجِ دریا
- رُخصت اے بزمِ جہاں!
- طفلِ شِیر خوار
- تصویرِ درد
- نالۂ فراق
- چاند (میرے ویرانے سے کوسوں دُور ہے تیرا وطن)
- بلالؓ (چمک اُٹھا جو ستارہ ترے مقدّر کا)
- سرگزشتِ آدم
- ترانۂ ہندی
- جُگنو
- صُبح کا ستارہ
- ہندوستانی بچوں کا قومی گیت
- نیا شوالا
- داغؔ
- ابر
- ایک پرندہ اور جگنو
- بچّہ اور شمع
- کنارِ راوی
- اِلتجائے مُسافر
- گُلزارِ ہست و بود نہ بیگانہ وار دیکھ
- نہ آتے، ہمیں اس میں تکرار کیا تھی
- عجب واعظ کی دینداری ہے یا رب
- لاؤں وہ تنکے کہیں سے آشیانے کے لیے
- کیا کہوں اپنے چمن سے مَیں جُدا کیونکر ہوا
- انوکھی وضع ہے، سارے زمانے سے نرالے ہیں
- ظاہر کی آنکھ سے نہ تماشا کرے کوئی
- کہوں کیا آرزوئے بے دلی مُجھ کو کہاں تک ہے
- جنھیں مَیں ڈُھونڈتا تھا آسمانوں میں زمینوں میں
- ترے عشق کی انتہا چاہتا ہوں
- کشادہ دستِ کرم جب وہ بے نیاز کرے
- سختیاں کرتا ہوں دل پر، غیر سے غافل ہوں میں
- مجنوں نے شہر چھوڑا تو صحرا بھی چھوڑ دے
- محبت (عروسِ شب کی زُلفیں تھیں ابھی ناآشنا خَم سے)
- حقیقتِ حُسن
- پیام
- سوامی رام تیرتھ
- طلبۂ علی گڑھ کالج کے نام
- اخترِ صُبح
- حُسن و عشق
- ۔۔۔۔ کی گود میں بِلّی دیکھ کر
- کلی
- چاند اور تارے
- وِصال
- سُلَیمیٰ
- عاشقِ ہرجائی
- کوششِ نا تمام
- نوائے غم
- عشرتِ امروز
- انسان (قُدرت کا عجیب یہ ستم ہے)
- جلوۂ حُسن
- ایک شام
- تنہائی
- پیامِ عشق
- فراق
- عبد القادر کے نام
- صِقلیہ
- زندگی انساں کی اک دَم کے سوا کچھ بھی نہیں
- الٰہی عقلِ خجستہ پے کو ذرا سی دیوانگی سِکھا دے
- زمانہ دیکھے گا جب مرے دل سے محشر اُٹھّے گا گفتگو کا
- چمک تیری عیاں بجلی میں، آتش میں، شرارے میں
- یوں تو اے بزمِ جہاں! دِلکش تھے ہنگامے ترے
- مثالِ پرتوِ مے طوفِ جام کرتے ہیں
- زمانہ آیا ہے بے حجابی کا، عام دیدارِ یار ہو گا
- بلادِ اسلامیہ
- ستارہ
- دوستارے
- گورستانِ شاہی
- نمودِ صبح
- تضمین بر شعرِ انیسی شاملوؔ
- فلسفۂ غم
- پُھول کا تحفہ عطا ہونے پر
- ترانۂ ملی
- وطنیّت
- ایک حاجی مدینے کے راستے میں
- قطعہ
- شکوہ
- چاند (اے چاند! حُسن تیرا فطرت کی آبرو ہے)
- رات اور شاعر
- بزمِ انجم
- سیرِ فلک
- نصیحت (میں نے اقبالؔ سے از راہِ نصیحت یہ کہا)
- رام
- موٹر
- انسان (منظر چَمنِستاں کے زیبا ہوں کہ نازیبا)
- خطاب بہ جوانانِ اسلام
- غرۂ شوال یا ہلال عید
- شمع اور شاعر
- مسلم
- حضورِ رسالت مآبؐ میں
- شفاخانۂ حجاز
- جوابِ شکوَہ
- ساقی
- تعلیم اور اس کے نتائج
- قربِ سلطان
- شاعر (جُوئے سرود آفریں آتی ہے کوہسار سے)
- نویدِ صبح
- دُعا (یا رب! دلِ مسلم کو وہ زندہ تمنّا دے)
- عید پر شعر لِکھنے کی فرمائش کے جواب میں
- فاطمہ بنت عبد اللہ
- شبنم اور ستارے
- مُحاصرۂ ادَرنہ
- غلام قادر رُہیلہ
- ایک مکالمہ
- مَیں اور تُو
- تضمین بر شعرِ ابوطالب کلیمؔ
- شبلیؔ و حالیؔ
- اِرتقا
- صِدّیقؓ
- تہذیبِ حاضر
- والدہ مرحومہ کی یاد میں
- شُعاعِ آفتاب
- عُرفیؔ
- ایک خط کے جواب میں
- نانک
- کُفر و اسلام
- بلالؓ (لِکھّا ہے ایک مغربیِ حق شناس نے)
- مسلمان اور تعلیمِ جدید
- پُھولوں کی شہزادی
- تضمین بر شعرِ صائبؔ
- فردوس میں ایک مکالمہ
- مذہب (تعلیمِ پیرِ فلسفۂ مغربی ہے یہ)
- جنگِ یرموک کا ایک واقعہ
- مذہب (اپنی مِلّت پر قیاس اقوامِ مغرب سے نہ کر)
- پیوستہ رہ شجر سے، امیدِ بہار رکھ
- شبِ معراج
- پُھول
- شیکسپیئر
- میں اور تُو
- اسِیری
- دریُوزۂ خلافت
- ہمایوں
- خِضرِ راہ
- طلوعِ اِسلام
- اے بادِ صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مرا
- یہ سرودِ قُمری و بُلبل فریبِ گوش ہے
- نالہ ہے بُلبلِ شوریدہ ترا خام ابھی
- پردہ چہرے سے اُٹھا، انجمن آرائی کر
- پھر بادِ بہار آئی، اقبال غزل خواں ہو
- کبھی اے حقیقتِ منتظَر! نظر آ لباسِ مجاز میں
- تہِ دام بھی غزل آشنا رہے طائرانِ چمن تو کیا
- گرچہ تُو زندانیِ اسباب ہے
- مشرق میں اصول دین بن جاتے ہیں
- لڑکیاں پڑھ رہی ہیں انگریزی
- شیخ صاحب بھی تو پردے کے کوئی حامی نہیں
- یہ کوئی دن کی بات ہے اے مردِ ہوش مند
- تعلیمِ مغربی ہے بہت جُرأت آفریں
- کچھ غم نہیں جو حضرتِ واعظ ہیں تنگ دست
- تہذیب کے مریض کو گولی سے فائدہ
- انتہا بھی اس کی ہے؟ آخر خریدیں کب تلک
- ہم مشرق کے مسکینوں کا دل مغرب میں جا اٹکا ہے
- اصلِ شہود و شاہد و مشہود ایک ہے
- ہاتھوں سے اپنے دامن دُنیا نکل گیا
- وہ مِس بولی اِرادہ خودکشی کا جب کِیا میں نے
- ناداں تھے اس قدر کہ نہ جانی عرب کی قدر
- ہندوستاں میں جزوِ حکومت ہیں کونسلیں
- ممبری امپِیریَل کونسل کی کچھ مشکل نہیں
- دلیلِ مہر و وفا اس سے بڑھ کے کیا ہوگی
- فرما رہے تھے شیخ طریقِ عمل پہ وعظ
- دیکھئے چلتی ہے مشرق کی تجارت کب تک
- گائے اک روز ہوئی اُونٹ سے یوں گرمِ سخن
- رات مچّھر نے کَہ دیا مجھ سے
- یہ آیۂ نو، جیل سے نازل ہوئی مجھ پر
- جان جائے ہاتھ سے جائے نہ ست
- محنت و سرمایہ دنیا میں صف آرا ہو گئے
- شام کی سرحد سے رُخصت ہے وہ رندِ لم یزل
- تکرار تھی مزارع و مالک میں ایک روز
- اُٹھا کر پھینک دو باہر گلی میں
- کارخانے کا ہے مالک مَردکِ ناکردہ کار
- سُنا ہے مَیں نے، کل یہ گفتگو تھی کارخانے میں
- مسجد تو بنا دی شب بھر میں ایماں کی حرارت والوں نے