دیباچہ

شیخ عبدالقادر، بیرسٹر ایٹ لا، سابق مدیر «مخزن»

کسے خبر تھی کہ غالبؔ مرحوم کے بعد ہندوستان میں پھر کوئی ایسا شخص پیدا ہو گا جو اُردو شاعری کے جسم میں ایک نئی روح پھونک دے گا اور جس کی بدولت غالبؔ کا بے نظیر تخیل اور نرالا اندازِ بیان پھر وجود میں آئیں گے اور ادبِ اُردو کے فروغ کا باعث ہوں گے؛ مگر زبانِ اُردو کی خوش اقبالی دیکھیے کہ اس زمانے میں اقبال سا شاعر اسے نصیب ہوا جس کے کلام کا سِکّہ ہندوستان بھر کی اُردوداں دُنیا کے دلوں پر بیٹھا ہوا ہے اور جس کی شہرت روم و ایران بلکہ فرنگستان تک پہنچ گئی ہے۔

غالبؔ اور اقبالؔ میں بہت سی باتیں مشترک ہیں۔ اگر میں تناسخ کا قائل ہوتا تو ضرور کہتا کہ مرزا اسد اللہ خاں غالبؔ کو اُردو اور فارسی کی شاعری سے جو عشق تھا، اُس نے اُن کی روح کو عدم میں جا کر بھی چین نہ لینے دیا اور مجبور کیا کہ وہ پھر کسی جسدِ خاکی میں جلوہ افروز ہو کر شاعری کے چمن کی آبیاری کرے؛ اور اُس نے پنجاب کے ایک گوشے میں جسے سیالکوٹ کہتے ہیں، دوبارہ جنم لیا اور محمد اقبال نام پایا۔

جب شیخ محمد اقبال کے والد بزرگوار اور ان کی پیاری ماں ان کا نام تجویز کر رہے ہوں گے تو قبولِ دُعا کا وقت ہو گا کہ اُن کا دیا ہوا نام اپنے پُورے معنوں میں صحیح ثابت ہوا اور اُن کا اقبال مند بیٹا ہندوستان میں تحصیل علم سے فارغ ہو کر انگلستان پہنچا، وہاں کیمبرج میں کامیابی سے وقت ختم کر کے جرمنی گیا اور علمی دنیا کے اعلیٰ مدارج طے کر کے واپس آیا۔ شیخ محمد اقبال نے یورپ کے قیام کے زمانے میں بہت سی فارسی کتابوں کا مطالعہ کیا اور اس مطالعے کا خلاصہ ایک محققانہ کتاب کی صورت میں شائع کیا جسے فلسفۂ ایران کی مختصر تاریخ کہنا چاہیے۔ اسی کتاب کو دیکھ کر جرمنی والوں نے شیخ محمد اقبال کو ڈاکٹر کا علمی درجہ دیا۔ سرکارِ انگریزی کو، جس کے پاس مشرقی زبانوں اور علوم کی نسبت براہ راست اطلاع کے ذرائع کافی نہیں، جب ایک عرصے کے بعد معلوم ہوا کہ ڈاکٹر صاحب کی شاعری نے عالم گیر شہرت پیدا کر لی ہے تو اُس نے بھی از راہِ قدردانی سر کا ممتاز خطاب انھیں عطا کیا۔ اب وہ ڈاکٹر سر محمد اقبال کے نام سے مشہور ہیں لیکن ان کا نام جس میں یہ لُطفِ خداداد ہے کہ نام کا نام ہے اور تخلص کا تخلص، ان کی ڈاکٹری اور سری سے زیادہ مشہور اور مقبول ہے۔

سیالکوٹ میں ایک کالج ہے جس میں علمائے سلف کی یادگار اور اُن کے نقش قدم پر چلنے والے ایک بزرگ مولوی سید میر حسن٭ صاحب علومِ مشرقی کا درس دیتے ہیں۔ حال میں انھیں گورنمنٹ سے خطابِ شمس العلماء بھی ملا ہے۔ ان کی تعلیم کا یہ خاصہ ہے کہ جو کوئی ان سے فارسی یا عربی سیکھے، اُس کی طبیعت میں اُس زبان کا صحیح مذاق پیدا کر دیتے ہیں۔ اقبال کو بھی اپنی ابتدائے عمر میں مولوی سید میر حسن سا استاد ملا۔ طبیعت میں علم و ادب سے مناسبت قُدرتی طور پر موجود تھی۔ فارسی اور عربی کی تحصیل مولوی صاحب موصوف سے کی، سونے پر سُہاگا ہو گیا۔ ابھی اسکول ہی میں پڑھتے تھے کہ کلامِ موزوں زبان سے نکلنے لگا۔ پنجاب میں اردو کا رواج اس قدر ہو گیا تھا کہ ہر شہر میں زباں دانی اور شعر و شاعری کا چرچا کم و بیش موجود تھا۔ سیالکوٹ میں بھی شیخ محمد اقبال کی طالب علمی کے دنوں میں ایک چھوٹاسا مشاعرہ ہوتا تھا۔ اُس کے لیے اقبال نے کبھی کبھی غزل لکھنی شروع کر دی۔ شعرائے اردو میں اُن دنوں نواب مرزا خاں صاحب داغؔ دہلوی کا بہت شہرہ تھا اور نظامِ دکن کے استاد ہونے سے اُن کی شہرت اور بھی بڑھ گئی تھی۔ لوگ، جو اُن کے پاس جا نہیں سکتے تھے، خط و کتابت کے ذریعے دور ہی سے اُن سے شاگردی کی نسبت پیدا کرتے تھے۔ غزلیں ڈاک میں اُن کے پاس جاتی تھیں اور وہ اصلاح کے بعد واپس بھیجتے تھے۔ پچھلے زمانے میں جب ڈاک کا یہ انتظام نہ تھا، کسی شاعر کو اتنے شاگرد کیسے میسر آ سکتے تھے۔ اب اس سہولت کی وجہ سے یہ حال تھا کہ سیکٹروں آدمی اُن سے غائبانہ تلمذ رکھتے تھے اور اُنھیں اس کام کے لیے ایک عملہ اور محکمہ رکھنا پڑتا تھا۔ شیخ محمد اقبال نے بھی اُنھیں خط لکھا اور چند غزلیں اصلاح کے لیے بھیجیں۔ اس طرح اقبالؔ کو اُردو زبان دانی کے لیے بھی ایسے استاد سے نسبت پیدا ہوئی جو اپنے وقت میں زبان کی خوبی کے لحاظ سے فنِ غزل میں یکتا سمجھا جاتا تھا۔ گو اس ابتدائی غزل گوئی میں وہ باتیں تو موجود نہ تھیں جن سے بعد ازاں کلامِ اقبال نے شہرت پائی، مگر جنابِ داغؔ پہچان گئے کہ پنجاب کے ایک دور افتادہ ضلع کا یہ طالب علم کوئی معمولی غزل گو نہیں۔ اُنھوں نے جلد کہہ دیا کہ کلام میں اصلاح کی گنجائش بہت کم ہے، اور یہ سلسلہ تلمذ کا بہت دیر قائم نہیں رہا۔ البتہ اس کی یاد دونوں طرف رہ گئی۔ داغؔ کا نام اردو شاعری میں ایسا پایہ رکھتا ہے کہ اقبالؔ کے دل میں داغؔ سے اس مختصر اور غائبانہ تعلق کی بھی قدر ہے اور اقبالؔ نے داغؔ کی زندگی ہی میں قبول عام کا وہ درجہ حاصل کر لیا تھا کہ داغؔ مرحوم اس بات پر فخر کرتے تھے کہ اقبالؔ بھی ان لوگوں میں شامل ہے جن کے کلام کی اُنھوں نے اصلاح کی۔ مجھے خود دکن میں اُن سے ملنے کا اتفاق ہوا اور میں نے خود ایسے فخریہ کلمات اُن کی زبان سے سُنے۔

سیالکوٹ کے کالج میں ایف اے کے درجے تک تعلیم تھی۔ بی اے کے لیے شیخ محمد اقبال کو لاہور آنا پڑا۔ اُنھیں علمِ فلسفہ کی تحصیل کا شوق تھا اور اُنھیں لاہور کے اساتذہ میں ایک نہایت شفیق استاد ملا، جس نے فلسفے کے ساتھ اُن کی مناسبت دیکھ کر اُنھیں خاص توجہ سے پڑھانا شروع کیا۔ پروفیسر آرنلڈ صاحب، جو اب سر ٹامس آرنلڈ ہو گئے ہیں اور انگلستان میں مقیم ہیں، غیر معمولی قابلیت کے شخص ہیں۔ قوتِ تحریر اُن کی بہت اچھی ہے اور وہ علمی جستجو اور تلاش کے طریقِ جدید سے خوب واقف ہیں۔ انھوں نے چاہا کہ اپنے شاگرد کو اپنے مذاق اور اپنے طرزِ عمل سے حصہ دیں، اور وہ اس ارادے میں بہت کچھ کامیاب ہوئے۔ پہلے اُنھوں نے علی گڑھ کالج کی پروفیسری کے زمانے میں اپنے دوست مولانا شبلی مرحوم کے مذاق علمی کے پختہ کرنے میں کامیابی حاصل کی تھی، اب اُنھیں یہاں ایک اور جوہرِ قابل نظر آیا جس کے چمکانے کی آرزو اُن کے دل میں پیدا ہوئی۔ اور جو دوستی اور محبت استاد اور شاگرد میں پہلے دن سے پیدا ہوئی، وہ آخرش شاگرد کو استاد کے پیچھے پیچھے انگلستان لے گئی اور وہاں یہ رشتہ اور بھی مضبوط ہو گیا، اور آج تک قائم ہے۔ آرنلڈ خوش ہے کہ میری محنت ٹھکانے لگی اور میرا شاگرد علمی دنیا میں میرے لیے بھی باعثِ شہرت افزائی ہوا اور اقبالؔ معترف ہے کہ جس مذاق کی بنیاد سید میر حسن نے ڈالی تھی اور جسے درمیان میں داغؔ کے غائبانہ تعارف نے بڑھایا تھا، اُس کے آخری مرحلے آرنلڈ کی شفیقانہ رہبری سے طے ہوئے۔

اقبالؔ کو اپنی علمی منازل طے کرنے میں اچھے اچھے رہبر ملے اور بڑے بڑے علما سے سابقہ پڑا۔ ان لوگوں میں کیمبرج یونیورسٹی کے ڈاکٹر میک ٹیگرٹ، براؤن، نکلسن اور سارلی قابل ذکر ہیں۔ پروفیسر نکلسن تو ہمارے شکریے کے خاص طور پر مستحق ہیں کیونکہ اُنھوں نے اقبال کی مشہور فارسی نظم “اسرارِ خودی” کا انگریزی ترجمہ کر کے اور اُس پر دیباچہ اور حواشی لکھ کر یورپ اور امریکہ کو اقبال سے رُوشناس کیا۔ اسی طرح ہندوستان کی علمیِ دنیا میں جتنے نامور اُس زمانے میں موجود تھے مثلاً مولانا شبلیؔ مرحوم، مولانا حالیؔ مرحوم، اکبرؔ مرحوم، سب سے اقبالؔ کی ملاقات اور خط و کتابت رہی اور اُن کے اثرات اقبالؔ کے کلام پر اور اقبالؔ کا اثر اُن کی طبائع پر پڑتا رہا۔ مولانا شبلیؔ نے بہت سے خطوط میں اور حضرت اکبرؔ نے نہ صرف خطوں میں بلکہ بہت سے اشعار میں اقبالؔ کے کمال کا اعتراف کیا ہے، اور اقبالؔ نے اپنی نظم میں ان باکمالوں کی جابجا تعریف کی ہے۔

ابتدائی مشق کے دنوں کو چھوڑ کر اقبالؔ کا اردو کلام بیسویں صدی کے آغاز سے کچھ پہلے شروع ہوتا ہے۔ ۱۹۰۱ء سے غالباً دو تین سال پہلے میں نے اُنھیں پہلی مرتبہ لاہور کے ایک مشاعرے میں دیکھا۔ اس بزم میں ان کو ان کے چند ہم جماعت کھینچ کر لے آئے اور انھوں نے کہہ سُن کر ایک غزل بھی پڑھوائی۔ اس وقت تک لاہور میں لوگ اقبالؔ سے واقف نہ تھے۔ چھوٹی سی غزل تھی۔ سادہ سے الفاظ۔ زمین بھی مشکل نہ تھی۔ مگر کلام میں شوخی اور بے ساختہ پن موجود تھا۔ بہت پسند کی گئی۔ اس کے بعد دو تین مرتبہ پھر اسی مشاعرے میں انھوں نے غزلیں پڑھیں اور لوگوں کو معلوم ہوا کہ ایک ہونہار شاعر میدان میں آیا ہے۔ مگر یہ شہرت پہلے پہلے لاہور کے کالجوں کے طلبہ اور بعض ایسے لوگوں تک محدود رہی جو تعلیمی مشاغل سے تعلق رکھتے تھے۔ اتنے میں ایک ادبی مجلس قائم ہوئی جس میں مشاہیر شریک ہونے لگے اور نظم و نثر کے مضامین کی اس میں مانگ ہوئی۔ شیخ محمد اقبال نے اس کے ایک جلسے میں اپنی وہ نظم جس میں کوہِ ہمالہ سے خطاب ہے، پڑھ کر سُنائی۔ اس میں انگریزی خیالات تھے اور فارسی بندشیں۔ اس پر خوبی یہ کہ وطن پرستی کی چاشنی اس میں موجود تھی۔ مذاقِ زمانہ اور ضرورتِ وقت کے موافق ہونے کے سبب بہت مقبول ہوئی اور کئی طرف سے فرمائشیں ہونے لگیں کہ اسے شائع کیا جائے، مگر شیخ صاحب یہ عُذر کر کے کہ ابھی نظرثانی کی ضرورت ہے، اُسے اپنے ساتھ لے گئے اور وہ اُس وقت چھپنے نہ پائی۔ اس بات کو تھوڑا ہی عرصہ گزرا تھا کہ میں نے ادب اُردو کی ترقی کے لیے رسالہ مخزن جاری کرنے کا ارادہ کیا۔ اس اثنا میں شیخ محمد اقبال سے میری دوستانہ ملاقات پیدا ہو چکی تھی۔ میں نے ان سے وعدہ لیا کہ اس رسالے کے حصّہ نظم کے لیے وہ نئے رنگ کی نظمیں مجھے دیا کریں گے۔ پہلا رسالہ شائع ہونے کو تھا کہ میں ان کے پاس گیا اور میں نے ان سے کوئی نظم مانگی۔ انھوں نے کہا ابھی کوئی نظم تیار نہیں۔ میں کہا کہ 'ہمالہ' والی نظم دے دیجیے اور دوسرے مہینے کے لیے کوئی اور لکھیے۔ انھوں نے اس نظم کے دینے میں پس و پیش کی کیونکہ انھیں یہ خیال تھا کہ اس میں کچھ خامیاں ہیں، مگر میں دیکھ چکا تھا کہ وہ بہت مقبول ہوئی، اس لیے میں نے زبر دستی وہ نظم ان سے لے لی اور مخزن کی پہلی جلد کے پہلے نمبر میں، جو اپریل ۱۹۰۱ء میں نکلا شائع کر دی۔ یہاں سے گویا اقبال کی اُردو شاعری کا پبلک طور پر آغاز ہوا اور ۱۹۰۵ء تک، جب وہ ولایت گئے، یہ سلسلہ جاری رہا۔ اس عرصے میں وہ عموماً مخزن کے ہر نمبر کے لیے کوئی نہ کوئی نظم لکھتے تھے اور جوں جوں لوگوں کو ان کی شاعری کا حال معلوم ہوتا گیا، جابجا مختلف رسالوں اور اخباروں سے فرمائشیں آنے لگیں اور انجمنیں اور مجالس درخواستیں کرنے لگیں کہ اُن کے سالانہ جلسوں میں لوگوں کو وہ اپنے کلام سے محظوظ کریں۔ شیخ صاحب اُس وقت طالب علمی سے فارغ ہو کر گورنمنٹ کالج میں پروفیسر ہو گئے تھے اور دن رات علمی صحبتوں اور مشاغل میں بسر کرتے تھے۔ طبیعت زوروں پر تھی، شعر کہنے کی طرف جس وقت مائل ہوتے تو غضب کی آمد ہوتی تھی۔ ایک ایک نشست میں بے شمار شعر ہو جاتے تھے۔ ان کے دوست اور بعض طالب علم جو پاس ہوتے پنسل کاغذ لے کر لکھتے جاتے اور وہ اپنی دھُن میں کہتے جاتے۔ میں نے اُس زمانے میں انھیں کبھی کاغذ قلم لے کر فکر سخن کرتے نہیں دیکھا۔ موزوں الفاظ کا ایک دریا بہتا یا ایک چشمہ اُبلتا معلوم ہوتا تھا۔ ایک خاص کیفیت رقّت کی عموماً ان پر طاری ہوتی تھی۔ اپنے اشعار سُریلی آواز میں ترنم سے پڑھتے تھے، خود وجد کرتے اور دوسروں کو وجد میں لاتے تھے۔ یہ عجیب خصوصیت ہے کہ حافظہ ایسا پایا ہے کہ جتنے شعر اس طرح زبان سے نکلیں، اگر وہ ایک مسلسل نظم کے ہوں تو سب کے سب دوسرے وقت اور دوسرے دن اُسی ترتیب سے حافظے میں محفوظ ہوتے ہیں جس ترتیب سے وہ کہے گئے تھے اور درمیان میں خود وہ اُنھیں قلمبند بھی نہیں کرتے۔ مجھے بہت سے شعرا کی ہم نشینی کا موقع ملا ہے اور بعض کو میں نے شعر کہتے بھی دیکھا اور سُنا ہے، مگر یہ رنگ کسی اور میں نہیں دیکھا۔ اقبالؔ کی ایک اور خصوصیت یہ ہے کہ بایں ہمہ موزونی طبع وہ حسب فرمائش شعر کہنے سے قاصر ہے۔ جب طبیعت خود مائلِ نظم ہو تو جتنے شعر چاہے کہہ دے مگر یہ کہ ہر وقت اور ہر موقع پر حسب فرمائش وہ کچھ لکھ سکے، یہ قریب قریب ناممکن ہے۔ اسی لیے جب ان کا نام نکلا اور فرمائشوں کی بھرمار ہوئی تو انھیں اکثر فرمائشوں کی تعمیل سے انکار ہی کرنا پڑا۔ اسی طرح انجمنوں اور مجالس کو بھی وہ عموماً جواب ہی دیتے رہے۔ فقط لاہور کی انجمن حمایت اسلام کو بعض وجوہ کے سبب یہ موقع ملا کہ اس کے سالانہ جلسوں میں کئی سال متواتر اقبال نے اپنی نظم سُنائی، جو خاص جلسے کے لیے لکھی جاتی تھی اور جس کی فکر وہ پہلے سے کرتے رہتے تھے۔

اوّل اوّل جو نظمیں جلسہ عام میں پڑھی جاتی تھیں تحت اللفظ پڑھی جاتی تھیں اور اس طرز میں بھی ایک لطف تھا۔ مگر بعض دوستوں نے ایک مرتبہ جلسۂ عام میں شیخ محمد اقبال سے بہ اصرار کہا کہ وہ نظم ترنم سے پڑھیں۔ ان کی آواز قدرتاً بلند اور خوش آئند ہے۔ طرزِ ترنم سے بھی خاصے واقف ہیں۔ ایسا سماں بندھا کہ سکوت کا عالم چھا گیا اور لوگ جھومنے لگے۔ اس کے دو نتیجے ہوئے۔ ایک تو یہ کہ ان کے لیے تحت اللفظ پڑھنا مشکل ہو گیا، جب کبھی پڑھیں لوگ اصرار کرتے ہیں کہ لَے سے پڑھا جائے، دوسرا یہ کہ پہلے تو خواص ہی ان کے کلام کے قدردان تھے اور اُس کو سمجھ سکتے تھے، اس کشش کے سبب عوام بھی کھنچ آئے۔ لاہور میں جلسۂ حمایت اسلام میں جب اقبال کی نظم پڑھی جاتی ہے تو دس دس ہزار آدمی ایک وقت میں جمع ہوتے ہیں اور جب تک نظم پڑھی جائے، لوگ دم بخود بیٹھے رہتے ہیں۔ جو سمجھتے ہیں وہ بھی محو اور جو نہیں سمجھتے وہ بھی محو ہوتے ہیں۔

۱۹۰۵ء سے ۱۹۰۸ء تک اقبالؔ کی شاعری کا ایک دوسرا دور شروع ہوا۔ یہ وہ زمانہ ہے جو انھوں نے یورپ میں بسر کیا۔ گو وہاں انھیں شاعری کے لیے نسبتاً کم وقت ملا اور ان نظموں کی تعداد جو وہاں کے قیام میں لکھی گئیں، تھوڑی ہے مگر ان میں ایک خاص رنگ وہاں کے مشاہدات کا نظر آتا ہے۔ اُس زمانے میں دو بڑے تغیر ان کے خیالات میں آئے۔ ان تین سالوں میں سے دو سال ایسے تھے جن میں میرا بھی وہیں قیام تھا اور اکثر ملاقات کے موقعے ملتے رہتے تھے۔ ایک دن شیخ محمد اقبال نے مجھ سے کہا کہ ان کا ارادہ مصمم ہو گیا ہے کہ وہ شاعری کو ترک کر دیں اور قسم کھا لیں کہ شعر نہیں کہیں گے اور جو وقت شاعری میں صرف ہوتا ہے، اُسے کسی اور مفید کام میں صرف کریں گے۔ میں نے ان سے کہا کہ ان کی شاعری ایسی شاعری نہیں ہے جسے ترک کرنا چاہیے بلکہ ان کے کلام میں وہ تاثیر ہے جس سے ممکن ہے کہ ہماری درماندہ قوم اور ہمارے کم نصیب ملک کے امراض کا علاج ہو سکے، اس لیے ایسی مفید خداداد طاقت کو بیکار کرنا درست نہ ہو گا۔ شیخ صاحب کچھ قائل ہوئے، کچھ نہ ہوئے اور یہ قرار پایا کہ آرنلڈ صاحب کی رائے پر آخری فیصلہ چھوڑا جائے۔ اگر وہ مجھ سے اتفاق کریں تو شیخ صاحب اپنے ارادہ ترکِ شعر کو بدل دیں اور اگر وہ شیخ صاحب سے اتفاق کریں تو تو ترکِ شعر اختیار کیا جائے۔ میں سمجھتا ہوں کہ علمی دنیا کی خوش قسمتی تھی کہ آرنلڈ صاحب نے مجھ سے اتفاقِ رائے کیا اور فیصلہ یہی ہوا کہ اقبال کے لیے شاعری کو چھوڑنا جائز نہیں اور جو وقت وہ اس شغل کی نذر کرتے ہیں، وہ ان کے لیے بھی مفید ہے اور ان کے ملک و قوم کے لیے بھی مفید ہے۔ ایک تغیر جو ہمارے شاعر کی طبیعت میں آیا تھا، اس کا تو یوں خاتمہ ہوا مگر دوسرا تغیر ایک چھوٹے سے آغاز سے ایک بڑے انجام تک پہنچا یعنی اقبال کی شاعری نے فارسی زبان کو اُردو زبان کی جگہ اپنا ذریعہ اظہار خیال بنا لیا۔

فارسی میں شعر کہنے کی رغبت اقبال کی طبیعت کئی اسباب سے پیدا ہوئی ہو گی، اور میں سمجھتا ہوں کہ انھوں نے اپنی کتاب حالاتِ تصوف کے متعلق لکھنے کے لیے جو کتب بینی کی، اُس کو بھی ضرور اس تغیر مذاق میں دخل ہو گا۔ اس کے علاوہ جوں جوں اُن کا مطالعہ علمِ فلسفہ کے متعلق گہرا ہوتا گیا اور دقیق خیالات کے اظہار کو بھی چاہا تو اُنھوں نے دیکھا کہ فارسی کے مقابلے میں اُردو کا سرمایہ بہت کم ہے اور فارسی میں کئی فقرے اور جملے سانچے میں ڈھلے ہوئے ایسے ملتے ہیں جن کے مطابق اُردو میں فقرے ڈھالنے آسان نہیں، اس لیے وہ فارسی کی طرف مائل ہو گئے۔ مگر بظاہر جس چھوٹے سے واقعے سے ان کی فارسی گوئی کی ابتدا ہوئی ہے، وہ یہ ہے کہ ایک مرتبہ وہ ایک دوست کے ہاں مدعو تھے جہاں ان سے فارسی اشعار سنانے کی فرمائش ہوئی اور پوچھا گیا کہ وہ فارسی شعر بھی کہتے ہیں یا نہیں۔ انھیں اعتراف کرنا پڑا کہ انھوں نے سوائے ایک آدھ شعر کبھی کہنے کے، فارسی لکھنے کی کوشش نہیں کی۔ مگر کچھ ایسا وقت تھا اور اس فرمائش نے ایسی تحریک ان کے دل میں پیدا کی کہ دعوت سے واپس آ کر، بستر پر لیٹے ہوئے، باقی وقت وہ شاید فارسی اشعار کہتے رہے اور صبح اُٹھتے ہی وہ مجھ سے ملے تو دو تازہ غزلیں فارسی میں تیار تھیں جو انھوں نے زبانی مجھے سُنائیں۔ ان غزلوں کے کہنے سے انھیں اپنی فارسی گوئی کی قوت کا حال معلوم ہوا جس کا پہلے انھوں نے اس طرح امتحان نہیں کیا تھا۔ اس کے بعد ولایت سے واپس آنے پر گو کبھی کبھی اُردو کی نظمیں بھی کہتے تھے مگر طبیعت کا رُخ فارسی کی طرف ہو گیا۔ یہ ان کی شاعری کا تیسرا دور ہے جو ۱۹۰۸ء کے بعد سے شروع ہوا اور جو اب تک چل رہا ہے۔ اس عرصے میں اُردو نظمیں بھی بہت سی ہوئیں اور اچھی اچھی، جن کی دھُوم مَچ گئی۔مگر اصل کام جس کی طرف وہ متوجہ ہو گئے، وہ ان کی فارسی مثنوی اسرارِ خودی تھی۔ اس کا خیال دیر تک ان کے دماغ میں رہا اور رفتہ رفتہ دماغ سے صفحۂ قرطاس پر اُترنے لگا، اور آخر ایک مستقل کتاب کی صورت میں ظہور پذیر ہوا جس سے اقبالؔ کا نام ہندوستان سے باہر بھی مشہور ہو گیا۔

فارسی میں اقبالؔ کے قلم سے تین کتابیں اس وقت تک نکلی ہیں؛ 'اسرارِ خودی'، 'رموزِ بے خودی' اور 'پیام مشرق'۔ ایک سے ایک بہتر! پہلی کتاب سے دوسری میں زبان زیادہ سادہ اور عام فہم ہو گئی ہے اور تیسری دوسری سے زیادہ سلیس ہے۔ جو لوگ اقبال کے اردو کلام کے دلدادہ ہیں، وہ فارسی نظموں کو دیکھ کر مایوس ہوئے ہوں گے۔ مگر انھیں یاد رکھنا چاہیے کہ فارسی نے وہ کام کیا جو اُردو سے نہیں ہو سکتا تھا۔ تمام اسلامی دنیا میں جہاں فارسی کم و بیش متداول ہے، اقبالؔ کا کلام اس ذریعے سے پہنچ گیا اور اس میں ایسے خیالات تھے جن کی ایسی وسیع اشاعت ضروری تھی اور اسی وسیلے سے یورپ اور امریکہ والوں کو ہمارے ایسے قابل قدر مصنف کا حال معلوم ہوا۔ پیام مشرق میں ہمارے مصنف نے یورپ کے ایک نہایت بلند پایہ شاعر گوئٹے کے سلامِ مغرب کا جواب لکھا ہے اور اس میں نہایت حکیمانہ خیالات کا اظہار بہت خوب صورتی سے کیا گیا ہے۔ اس کے اشعار میں بعض بڑے بڑے عقدے حل ہوئے ہیں جو پہلے آسان طریق سے بیان نہیں ہوئے تھے۔ مدت سے بعض رسائل اور اخبارات میں ڈاکٹر محمد اقبالؔ کو 'ترجمان حقیقت' کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے اور ان کتابوں کے خاص خاص اشعار سے یہ ثابت ہے کہ وہ اس لقب سے ملقب ہونے کے مستحق ہیں، اور جس کسی نے یہ لقب ان کے لیے پہلے وضع کیا ہے، اُس نے کوئی مبالغہ نہیں کیا۔

فارسی گوئی کا ایک اثر اقبال کے اُردو کلام پر یہ ہوا ہے کہ جو نظمیں اُردو میں دورِ سوم میں لکھی گئی ہیں، اُن میں سے اکثر میں فارسی ترکیبیں اور فارسی بندشیں پہلے سے بھی زیادہ ہیں اور بعض جگہ فارسی اشعار پر تضمین کی گئی ہے۔ گویا یہ معلوم ہوتا ہے کہ اشہبِ قلم جو فارسی کے میدان میں گامزن ہے، اُس کی باگ کسی قدر تکلّف کے ساتھ اُردو کی طرف موڑی جا رہی ہے۔

اقبال کا اُردو کلام جو وقتاً فوقتاً ۱۹۰۱ء سے لے کر آج تک رسالوں اور اخباروں میں شائع ہوا اور انجمنوں میں پڑھا گیا، اُس کے مجموعے کی اشاعت کے بہت لوگ خواہاں تھے۔ ڈاکٹر صاحب کے احباب بارہا تقاضا کرتے تھے کہ اُردو کلام کا مجموعہ شائع کیا جائے مگر کئی وجوہات سے آج تک مجموعۂ اُردو شائع نہیں ہو سکا تھا۔ خدا کا شکر ہے کہ آخر اب شائقینِ کلام اُردو کی یہ دیرینہ آرزو بر آئی اور اقبال کی اُردو نظموں کا مجموعہ شائع ہوتا ہے جو دو سو بانوے صفحوں پر مشتمل ہے اور تین حصوں پر منقسم ہے۔حصہ اوّل میں ۱۹۰۵ء تک کی نظمیں ہیں، حصہ دوم میں ۱۹۰۵ء سے ۱۹۰۸ء تک کی اور حصہ سوم میں ۱۹۰۸ء سے لے کر آج تک کا اُردو کلام ہے۔ یہ دعوے سے کہا جا سکتا ہے کہ اُردو میں آج تک کوئی ایسی کتاب اشعار کی موجود نہیں ہے جس میں خیالات کی یہ فراوانی ہو اور اس قدر مطالب و معانی یکجا ہوں۔ اور کیوں نہ ہو، ایک صدی کے چہارم حصّے کے مطالعے اور تجربے اور مشاہدے کا نچوڑ اور سیر و سیاحت کا نتیجہ ہے۔ بعض نظموں میں ایک ایک شعر اور ایک ایک مصرع ایسا ہے کہ اُس پر ایک مستقل مضمون لکھا جا سکتا ہے۔ یہ مختصر سا مضمون جو بطور دیباچہ لکھا گیا ہے، اس میں مختلف نظموں کی تنقید یا مختلف اوقات کی نظموں کے باہم مقابلے کی گنجائش نہیں، اس کے لیے اگر ہو سکا تو میں کوئی اور موقع تلاش کروں گا۔ سرِ دست میں صاحبانِ ذوق کو مبارک باد دیتا ہوں کہ اُردو کُلیّات اقبالؔ اُن کے سامنے رسالوں اور گلدستوں کے اوراقِ پریشاں سے نکل کر ایک مجموعۂ دل پذیر کی شکل میں جلوہ گر ہے، اور اُمید ہے کہ جو لوگ مدّت سے اس کلام کو یکجا دیکھنے کے مشتاق تھے، وہ اس مجموعے کو شوق کی نگاہوں سے دیکھیں گے اور دل سے اس کی قدر کریں گے۔

آخر میں اُردو شاعری کی طرف سے میں یہ درخواست قابل مصنف سے کرتا ہوں کہ وہ اپنے دل و دماغ سے اُردو کو وہ حصّہ دیں جس کی وہ مستحق اور محتاج ہے۔ خود انھوں نے غالبؔ کی تعریف میں چند بند لکھے ہیں جن میں ایک شعر میں اُردو کی حالت کا صحیح نقشہ کھینچا ہے ؎

گیسوئے اُردو ابھی منّت پذیرِ شانہ ہے

شمع یہ سودائیِ دلسوزیِ پروانہ ہے

ہم ان کا یہ شعر پڑھ کر ان سے یہ کہتے ہیں کہ جس احساس نے یہ شعر ان سے نکلوایا تھا، اُس سے کام لے کر اب وہ پھر کچھ عرصے کے لیے گیسوئے اُردو کے سنوارنے کی طرف متوجہ ہوں اور ہمیں موقع دیں کہ ہم اِس مجموعۂ اُردو کو جو اس قدر دیر کے بعد چھپا ہے، ایک دوسرے کلیات اُردو کا پیش خیمہ سمجھیں۔

ماخذ: ویکی ماخذ · علّامہ محمد اقبال