دیکھئے چلتی ہے مشرق کی تجارت کب تک
دیکھئے چلتی ہے مشرق کی تجارت کب تک
شیشۂ دِیں کے عَوض جام و سبُو لیتا ہے
ہے مداوائے جنُون نشترِ تعلیمِ جدید
میرا سرجن رگِ ملّت سے لہُو لیتا ہے
دیکھئے چلتی ہے مشرق کی تجارت کب تک
شیشۂ دِیں کے عَوض جام و سبُو لیتا ہے
ہے مداوائے جنُون نشترِ تعلیمِ جدید
میرا سرجن رگِ ملّت سے لہُو لیتا ہے
ماخذ: ویکی ماخذ · علّامہ محمد اقبال