ہاتھوں سے اپنے دامن دُنیا نکل گیا

ہاتھوں سے اپنے دامنِ دُنیا نکل گیا

رُخصت ہُوا دلوں سے خیالِ معاد بھی

قانونِ وقف کے لیے لڑتے تھے شیخ جی

پُوچھو تو، وقف کے لیے ہے جائداد بھی!

ماخذ: ویکی ماخذ · علّامہ محمد اقبال