رباعی
- ہر طرح کی دل میں چاہ کر کے چھوڑے
- ساقی کے کرم سے فیض یہ جاری ہے
- جس دل میں غبار ہو وہ دل صاف کہاں
- دل مورد ایذا و بلا ہوتا ہے
- سو طرح کا میرے لیے سامان کیا
- تعریف بتاؤں شعر کی کیا کیا ہے
- روشن ہے کہ شاد سخن آرا میں ہوں
- تنہا ہے چراغ دور پروانے ہیں
- کیا مفت زاہدوں نے الزام لیا
- حقا کہ وہ جادۂ وفا سے بھی پھرا
- مضموں میرے دل میں بے طلب آتے ہیں
- کیوں بات چھپاؤں رند مے نوش ہوں میں
- بدلے نہ صداقت کا نشاں ایک رہے
- ہر حال میں آبروئے فن لازم ہے
- بعض اہل وطن سے اب بھی دکھ پاتا ہوں
- ہادی ہوں میں کام ہے ہدایت میرا
- کیوں کر نہ رہے غم نہانی تیرا
- جس وقت کا ڈر تھا وہ شباب آ پہنچا
- اس سلسلۂ شہود کو توڑ دیا
- جو چاہئے دیکھنا نہ دیکھا میں نے
- چالاک ہیں سب کے سب بڑھتے جاتے ہیں
- شہروں میں پھرے نہ سوئے صحرا نکلے
- ارباب قیود تجھ کو کیا دیکھیں گے
- اخلاق سے جہل علم و فن سے غافل