یادگار عالی (۱۹۳۷)

ردیف الف

  1. سو بار قتل کر ہمیں تو اور جلائے جا
  2. کیا بتاؤں بے ترے کیسا رہا
  3. جب نقاب چہرۂ قاتل کھلا

ردیف ر

  1. ملی کیا خاک راحت کنج مرقد میں نہاں ہو کر

ردیف ن

  1. اٹھائیں گے کوئی تازہ قیامت تن کے بیٹھے ہیں