کیا بتاؤں بے ترے کیسا رہا

ردیف: رہا

کیا بتاؤں بے ترے کیسا رہا

یہ سمجھ مر مر کے میں جیتا رہا

چودھویں کی رات میں نکلا جو چاند

مجھ کو پہروں آپ کا دھوکا رہا

بھول کر بھی تم کو کچھ آیا نہ دھیان

مرنے والا مر گیا جیتا رہا

کس لئے اوروں سے ہو تم پوچھتے

دیکھ لو اب آ کے مجھ میں کیا رہا

جی گیا تو میں یہ سمجھا جی گیا

جیتے جی کا روگ تھا جاتا رہا

کیا لگایا ہاتھ دھڑ سے آپ نے

پاؤں پر سر کٹ کے دھڑ سے آ رہا

رکھ گئے دو پھول میرے ڈھیر پر

مر گئے پر بوجھ یہ ان کا رہا

میں ہی اک کانٹا تھا سو میں بھی نہیں

سچ ہے اب کس کا انہیں کھٹکا رہا

ماخذ: ویکی ماخذ · رفیع احمد عالی