سو بار قتل کر ہمیں تو اور جلائے جا

ردیف: جا

سو بار قتل کر ہمیں تو اور جلائے جا

جس طرح دل میں آئے ترے آزمائے جا

اے شاہ حسن در پہ پڑا ہے ترے فقیر

نقش قدم کی طرح اسے بھی مٹائے جا

پڑتا ہوں تیرے پاؤں مجھے نیم جاں نہ چھوڑ

جلاد ایک ہاتھ تو پورا لگائے جا

عالیؔ کی قبر پر نہ اٹھا فاتحہ کو ہاتھ

ٹھوکر ہی پاؤں سے کوئی ظالم لگائے جا

ماخذ: ویکی ماخذ · رفیع احمد عالی