جب نقاب چہرۂ قاتل کھلا

ردیف: کھلا

جب نقاب چہرۂ قاتل کھلا

تب دل وابستۂ بسمل کھلا

جب چڑھایا دار پر منصور کو

تب معمائے حق و باطل کھلا

جانے والوں پر عدم کے کیا بنی

کچھ نہ حال سختیٔ منزل کھلا

میری خاموشی کا اک چرچا ہوا

بند لب رکھنے سے راز دل کھلا

حسرت دیدار قاتل دیکھنا

رہ گیا ہے دیدۂ بسمل کھلا

ظرف عالیؔ دیکھ اے پیر مغاں

پی گیا خم اور نہ راز دل کھلا

ماخذ: ویکی ماخذ · رفیع احمد عالی