اٹھائیں گے کوئی تازہ قیامت تن کے بیٹھے ہیں

ردیف: کے بیٹھے ہیں

اٹھائیں گے کوئی تازہ قیامت تن کے بیٹھے ہیں

بگاڑیں گے ہزاروں گھر کہ وہ بن ٹھن کے بیٹھے ہیں

ہمارے قتل سے ناحق ہیں نادم اپنے گھر جائیں

جھکائے سر عبث اب سامنے مدفن کے بیٹھے ہیں

اٹھایا ہجر میں طوفان کیا کیا چشم گریاں نے

یہ دیکھو بام و در کیسے مرے مسکن کے بیٹھے ہیں

قسم کھائی تھی ملنے کی عدو کے کچھ تو شرماؤ

یہ تم بیٹھے ہو یا پہلو میں ہم دشمن کے بیٹھے ہیں

نکلنے ہی نہیں دیتے ہیں کانٹے دشت وحشت سے

پکڑنے والے ہر جانب مرے دامن کے بیٹھے ہیں

ماخذ: ویکی ماخذ · رفیع احمد عالی