غزل

ردیف الف

  1. اب تو یہ بھی نہیں رہا احساس
  2. عشق کو بے نقاب ہونا تھا
  3. نظر ملا کے مرے پاس آ کے لوٹ لیا
  4. جو اب بھی نہ تکلیف فرمائیے گا
  5. آنکھوں کا تھا قصور نہ دل کا قصور تھا
  6. دل کو سکون روح کو آرام آ گیا
  7. کام آخر جذبۂ بے اختیار آ ہی گیا
  8. تجھی سے ابتدا ہے تو ہی اک دن انتہا ہوگا
  9. یادش بخیر جب وہ تصور میں آ گیا
  10. آج کیا حال ہے یا رب سر محفل میرا
  11. لاکھوں میں انتخاب کے قابل بنا دیا
  12. کثرت میں بھی وحدت کا تماشا نظر آیا
  13. اس عشق کے ہاتھوں سے ہرگز نہ مفر دیکھا
  14. اس کی نظروں میں انتخاب ہوا
  15. ہر دم دعائیں دینا ہر لحظہ آہیں بھرنا
  16. ستم کامیاب نے مارا
  17. ہر حقیقت کو بانداز تماشا دیکھا
  18. حسن کے احترام نے مارا
  19. کانٹا تھا چشم یاس میں ایک ایک رنگ گل

ردیف ت

  1. نہ دیکھا رخ بے نقاب محبت
  2. سینے میں اگر ہو دل بیدار محبت

ردیف د

  1. دنیا کے ستم یاد نہ اپنی ہی وفا یاد

ردیف ر

  1. کبھی شاخ و سبزہ و برگ پر کبھی غنچہ و گل و خار پر

ردیف گ

  1. عشق میں لا جواب ہیں ہم لوگ

ردیف م

  1. اللہ رے اس گلشن ایجاد کا عالم
  2. رکھتے ہیں خضر سے نہ غرض رہ نما سے ہم
  3. جنوں کم جستجو کم تشنگی کم
  4. حسن کافر شباب کا عالم

ردیف ن

  1. ہم کو مٹا سکے یہ زمانے میں دم نہیں
  2. دل میں کسی کے راہ کئے جا رہا ہوں میں
  3. اللہ اگر توفیق نہ دے انسان کے بس کا کام نہیں
  4. محبت میں یہ کیا مقام آ رہے ہیں
  5. شاعر فطرت ہوں جب بھی فکر فرماتا ہوں میں
  6. بے کیف دل ہے اور جیے جا رہا ہوں میں
  7. سبھی انداز حسن پیارے ہیں
  8. جو طوفانوں میں پلتے جا رہے ہیں
  9. کوئی یہ کہہ دے گلشن گلشن
  10. عشق لا محدود جب تک رہنما ہوتا نہیں
  11. نگاہوں کا مرکز بنا جا رہا ہوں
  12. نیاز و ناز کے جھگڑے مٹائے جاتے ہیں
  13. یہ ذرے جن کو ہم خاک رہ منزل سمجھتے ہیں

ردیف ہ

  1. وہ ادائے دلبری ہو کہ نوائے عاشقانہ
  2. یہ فلک یہ ماہ و انجم یہ زمین یہ زمانہ

ردیف ی

  1. داستان غم دل ان کو سنائی نہ گئی
  2. دل گیا رونق حیات گئی
  3. کسی صورت نمود سوز پنہانی نہیں جاتی
  4. ترے جمال حقیقت کی تاب ہی نہ ہوئی
  5. شب وصل کیا مختصر ہو گئی
  6. وہ کافر آشنا نا آشنا یوں بھی ہے اور یوں بھی
  7. اک لفظ محبت کا ادنیٰ یہ فسانا ہے
  8. آدمی آدمی سے ملتا ہے
  9. یہ ہے مے کدہ یہاں رند ہیں یہاں سب کا ساقی امام ہے
  10. کچھ اس ادا سے آج وہ پہلو نشیں رہے
  11. آنکھوں میں بس کے دل میں سما کر چلے گئے
  12. طبیعت ان دنوں بیگانۂ غم ہوتی جاتی ہے
  13. برابر سے بچ کر گزر جانے والے
  14. اگر نہ زہرہ جبینوں کے درمیاں گزرے
  15. کیا تعجب کہ مری روح رواں تک پہنچے
  16. وہ جو روٹھیں یوں منانا چاہیئے
  17. سب پہ تو مہربان ہے پیارے
  18. یہ مصرع کاش نقش ہر در و دیوار ہو جائے
  19. کیا برابر کا محبت میں اثر ہوتا ہے
  20. اے حسن یار شرم یہ کیا انقلاب ہے
  21. فکر منزل ہے نہ ہوش جادۂ منزل مجھے
  22. شرما گئے لجا گئے دامن چھڑا گئے
  23. اسے حال و قال سے واسطہ نہ غرض مقام و قیام سے
  24. کیا کشش حسن بے پناہ میں ہے
  25. آیا نہ راس نالۂ دل کا اثر مجھے
  26. شب فراق ہے اور نیند آئی جاتی ہے
  27. جہل خرد نے دن یہ دکھائے
  28. نقاب حسن دوعالم اٹھائی جاتی ہے
  29. جان کر من جملۂ خاصان مے خانہ مجھے
  30. دل کو مٹا کے داغ تمنا دیا مجھے
  31. احساس عاشقی نے بیگانہ کر دیا ہے
  32. راز جو سینۂ فطرت میں نہاں ہوتا ہے
  33. محبت صلح بھی پیکار بھی ہے
  34. یہ دن بہار کے اب کے بھی راس آ نہ سکے
  35. عشق ہی تنہا نہیں شوریدہ سر میرے لئے
  36. محبت آپ اپنی ترجماں ہے
  37. خوشا بیداد خون حسرت بیداد ہوتا ہے
  38. عشق کی داستان ہے پیارے