غزل
ردیف الف
- اب تو یہ بھی نہیں رہا احساس
- عشق کو بے نقاب ہونا تھا
- نظر ملا کے مرے پاس آ کے لوٹ لیا
- جو اب بھی نہ تکلیف فرمائیے گا
- آنکھوں کا تھا قصور نہ دل کا قصور تھا
- دل کو سکون روح کو آرام آ گیا
- کام آخر جذبۂ بے اختیار آ ہی گیا
- تجھی سے ابتدا ہے تو ہی اک دن انتہا ہوگا
- یادش بخیر جب وہ تصور میں آ گیا
- آج کیا حال ہے یا رب سر محفل میرا
- لاکھوں میں انتخاب کے قابل بنا دیا
- کثرت میں بھی وحدت کا تماشا نظر آیا
- اس عشق کے ہاتھوں سے ہرگز نہ مفر دیکھا
- اس کی نظروں میں انتخاب ہوا
- ہر دم دعائیں دینا ہر لحظہ آہیں بھرنا
- ستم کامیاب نے مارا
- ہر حقیقت کو بانداز تماشا دیکھا
- حسن کے احترام نے مارا
- کانٹا تھا چشم یاس میں ایک ایک رنگ گل
ردیف ت
ردیف د
ردیف ر
ردیف گ
ردیف م
- اللہ رے اس گلشن ایجاد کا عالم
- رکھتے ہیں خضر سے نہ غرض رہ نما سے ہم
- جنوں کم جستجو کم تشنگی کم
- حسن کافر شباب کا عالم
ردیف ن
- ہم کو مٹا سکے یہ زمانے میں دم نہیں
- دل میں کسی کے راہ کئے جا رہا ہوں میں
- اللہ اگر توفیق نہ دے انسان کے بس کا کام نہیں
- محبت میں یہ کیا مقام آ رہے ہیں
- شاعر فطرت ہوں جب بھی فکر فرماتا ہوں میں
- بے کیف دل ہے اور جیے جا رہا ہوں میں
- سبھی انداز حسن پیارے ہیں
- جو طوفانوں میں پلتے جا رہے ہیں
- کوئی یہ کہہ دے گلشن گلشن
- عشق لا محدود جب تک رہنما ہوتا نہیں
- نگاہوں کا مرکز بنا جا رہا ہوں
- نیاز و ناز کے جھگڑے مٹائے جاتے ہیں
- یہ ذرے جن کو ہم خاک رہ منزل سمجھتے ہیں
ردیف ہ
ردیف ی
- داستان غم دل ان کو سنائی نہ گئی
- دل گیا رونق حیات گئی
- کسی صورت نمود سوز پنہانی نہیں جاتی
- ترے جمال حقیقت کی تاب ہی نہ ہوئی
- شب وصل کیا مختصر ہو گئی
- وہ کافر آشنا نا آشنا یوں بھی ہے اور یوں بھی
- اک لفظ محبت کا ادنیٰ یہ فسانا ہے
- آدمی آدمی سے ملتا ہے
- یہ ہے مے کدہ یہاں رند ہیں یہاں سب کا ساقی امام ہے
- کچھ اس ادا سے آج وہ پہلو نشیں رہے
- آنکھوں میں بس کے دل میں سما کر چلے گئے
- طبیعت ان دنوں بیگانۂ غم ہوتی جاتی ہے
- برابر سے بچ کر گزر جانے والے
- اگر نہ زہرہ جبینوں کے درمیاں گزرے
- کیا تعجب کہ مری روح رواں تک پہنچے
- وہ جو روٹھیں یوں منانا چاہیئے
- سب پہ تو مہربان ہے پیارے
- یہ مصرع کاش نقش ہر در و دیوار ہو جائے
- کیا برابر کا محبت میں اثر ہوتا ہے
- اے حسن یار شرم یہ کیا انقلاب ہے
- فکر منزل ہے نہ ہوش جادۂ منزل مجھے
- شرما گئے لجا گئے دامن چھڑا گئے
- اسے حال و قال سے واسطہ نہ غرض مقام و قیام سے
- کیا کشش حسن بے پناہ میں ہے
- آیا نہ راس نالۂ دل کا اثر مجھے
- شب فراق ہے اور نیند آئی جاتی ہے
- جہل خرد نے دن یہ دکھائے
- نقاب حسن دوعالم اٹھائی جاتی ہے
- جان کر من جملۂ خاصان مے خانہ مجھے
- دل کو مٹا کے داغ تمنا دیا مجھے
- احساس عاشقی نے بیگانہ کر دیا ہے
- راز جو سینۂ فطرت میں نہاں ہوتا ہے
- محبت صلح بھی پیکار بھی ہے
- یہ دن بہار کے اب کے بھی راس آ نہ سکے
- عشق ہی تنہا نہیں شوریدہ سر میرے لئے
- محبت آپ اپنی ترجماں ہے
- خوشا بیداد خون حسرت بیداد ہوتا ہے
- عشق کی داستان ہے پیارے