جو طوفانوں میں پلتے جا رہے ہیں

ردیف: جا رہے ہیں

جو طوفانوں میں پلتے جا رہے ہیں

وہی دنیا بدلتے جا رہے ہیں

نکھرتا آ رہا ہے رنگ گلشن

خس و خاشاک جلتے جا رہے ہیں

وہیں میں خاک اڑتی دیکھتا ہوں

جہاں چشمے ابلتے جا رہے ہیں

چراغ دیر و کعبہ اللہ اللہ

ہوا کی ضد پہ جلتے جا رہے ہیں

شباب و حسن میں بحث آ پڑی ہے

نئے پہلو نکلتے جا رہے ہیں

ماخذ: ویکی ماخذ · جگر مراد آبادی