لاکھوں میں انتخاب کے قابل بنا دیا
ردیف: بنا دیا
لاکھوں میں انتخاب کے قابل بنا دیا
جس دل کو تم نے دیکھ لیا دل بنا دیا
ہر چند کر دیا مجھے برباد عشق نے
لیکن انہیں تو شیفتۂ دل بنا دیا
پہلے کہاں یہ ناز تھے یہ عشوہ و ادا
دل کو دعائیں دو تمہیں قاتل بنا دیا
ردیف: بنا دیا
لاکھوں میں انتخاب کے قابل بنا دیا
جس دل کو تم نے دیکھ لیا دل بنا دیا
ہر چند کر دیا مجھے برباد عشق نے
لیکن انہیں تو شیفتۂ دل بنا دیا
پہلے کہاں یہ ناز تھے یہ عشوہ و ادا
دل کو دعائیں دو تمہیں قاتل بنا دیا
ماخذ: ویکی ماخذ · جگر مراد آبادی