ضمیمۂ اول

  1. آفت آہنگ ہے کچھ نالۂ بلبل ورنہ
  2. بدتر از ویرانہ ہے فصلِ خزاں میں صحنِ باغ
  3. خزینہ دارِ محبت ہوئ ہوائے چمن
  4. کرم ہی کچھ سببِ لطف و التفات نہیں
  5. جوں شمع ہم اک سوختہ سامانِ وفا ہیں
  6. نالے دل کھول کے دو چار کروں یا نہ کروں
  7. وضعِ نیرنگئ آفاق نے مارا ہم کو
  8. حسنِ بے پروا گرفتارِ خود آرائ نہ ہو
  9. نہ پوچھ حال اس انداز اس عتاب کے ساتھ
  10. بتائیں ہم تمہارے عارض و کاکُل کو کیا سمجھے
  11. نسیمِ صبح جب کنعاں میں بوئے پیرَہن لائ
  12. وفا جفا کی طلب گار ہوتی آئ ہے
  13. یونہی افزائشِ وحشت کے جو ساماں ہوں گے
  14. نمائش پردہ دارِ طرز بیدادِ تغافل ہے
  15. خود جاں دے کے روح کو آزاد کیجئے
  16. ہم سے خوبانِ جہاں پہلو تہی کرتے رہے
  17. درد ہو دل میں تو دوا کیجے
  18. سکوت و خامشی اظہارِ حـالِ بے زبـانی ہے
  19. کس کی برقِ شوخئ رفتار کا دلدادہ ہے
  20. اس جور و جفا پر بھی بدظن نہیں ہم تجھ سے