ضمیمۂ اول
- آفت آہنگ ہے کچھ نالۂ بلبل ورنہ
- بدتر از ویرانہ ہے فصلِ خزاں میں صحنِ باغ
- خزینہ دارِ محبت ہوئ ہوائے چمن
- کرم ہی کچھ سببِ لطف و التفات نہیں
- جوں شمع ہم اک سوختہ سامانِ وفا ہیں
- نالے دل کھول کے دو چار کروں یا نہ کروں
- وضعِ نیرنگئ آفاق نے مارا ہم کو
- حسنِ بے پروا گرفتارِ خود آرائ نہ ہو
- نہ پوچھ حال اس انداز اس عتاب کے ساتھ
- بتائیں ہم تمہارے عارض و کاکُل کو کیا سمجھے
- نسیمِ صبح جب کنعاں میں بوئے پیرَہن لائ
- وفا جفا کی طلب گار ہوتی آئ ہے
- یونہی افزائشِ وحشت کے جو ساماں ہوں گے
- نمائش پردہ دارِ طرز بیدادِ تغافل ہے
- خود جاں دے کے روح کو آزاد کیجئے
- ہم سے خوبانِ جہاں پہلو تہی کرتے رہے
- درد ہو دل میں تو دوا کیجے
- سکوت و خامشی اظہارِ حـالِ بے زبـانی ہے
- کس کی برقِ شوخئ رفتار کا دلدادہ ہے
- اس جور و جفا پر بھی بدظن نہیں ہم تجھ سے