غزل
ردیف الف
- یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصال یار ہوتا
- بسکہ دشوار ہے ہر کام کا آساں ہونا
- نہ تھا کچھ تو خدا تھا کچھ نہ ہوتا تو خدا ہوتا
- درد منت کش دوا نہ ہوا
- عشرت قطرہ ہے دریا میں فنا ہو جانا
- عرض نیاز عشق کے قابل نہیں رہا
- آئینہ دیکھ اپنا سا منہ لے کے رہ گئے
- نقش فریادی ہے کس کی شوخی تحریر کا
- دوست غم خواری میں میری سعی فرماویں گے کیا
- پھر مجھے دیدۂ تر یاد آیا
- جور سے باز آئے پر باز آئیں کیا
- ذکر اس پری وش کا اور پھر بیاں اپنا
- ہوئی تاخیر تو کچھ باعث تاخیر بھی تھا
- کہتے ہو نہ دیں گے ہم دل اگر پڑا پایا
- گھر ہمارا جو نہ روتے بھی تو ویراں ہوتا
- دل مرا سوز نہاں سے بے محابا جل گیا
- دھمکی میں مر گیا جو نہ باب نبرد تھا
- دہر میں نقش وفا وجہ تسلی نہ ہوا
- شوق ہر رنگ رقیب سر و ساماں نکلا
- بزم شاہنشاہ میں اشعار کا دفتر کھلا
- ہوس کو ہے نشاط کار کیا کیا
- ایک ایک قطرہ کا مجھے دینا پڑا حساب
- اسدؔ ہم وہ جنوں جولاں گداۓ بے سر و پا ہیں
- در خور قہر و غضب جب کوئی ہم سا نہ ہوا
- میں اور بزم مے سے یوں تشنہ کام آؤں
- جز قیس اور کوئی نہ آیا بروئے کار
- یک ذرۂ زمیں نہیں بے کار باغ کا
- تو دوست کسو کا بھی ستم گر نہ ہوا تھا
- ستائش گر ہے زاہد اس قدر جس باغ رضواں کا
- محرم نہیں ہے تو ہی نوا ہائے راز کا
- گر نہ اندوہ شب فرقت بیاں ہو جائے گا
- گلہ ہے شوق کو دل میں بھی تنگئ جا کا
- جب بہ تقریب سفر یار نے محمل باندھا
- سرمۂ مفت نظر ہوں مری قیمت یہ ہے
- پئے نذر کرم تحفہ ہے شرم نا رسائی کا
- جراحت تحفہ الماس ارمغاں داغ جگر ہدیہ
- شب کہ برق سوز دل سے زہرۂ ابر آب تھا
- لطافت بے کثافت جلوہ پیدا کر نہیں سکتی
- نہ ہوگا یک بیاباں ماندگی سے ذوق کم میرا
- رشک کہتا ہے کہ اس کا غیر سے اخلاص حیف
- شب کہ وہ مجلس فروز خلوت ناموس تھا
- سراپا رہن عشق و نا گزیر الفت ہستی
- غافل بہ وہم ناز خود آرا ہے ورنہ یاں
- قطرۂ مے بسکہ حیرت سے نفس پرور ہوا
- وہ مری چین جبیں سے غم پنہاں سمجھا
- شمار سبحہ مرغوب بت مشکل پسند آیا
- شب خمار شوق ساقی رستخیز اندازہ تھا
- لب خشک در تشنگی مردگاں کا
ردیف ب
ردیف ت
- آمد خط سے ہوا ہے سرد جو بازار دوست
- افسوس کہ دنداں کا کیا رزق فلک نے
- رہا گر کوئی تا قیامت سلامت
- مند گئیں کھولتے ہی کھولتے آنکھیں غالبؔ
ردیف ج
ردیف چ
ردیف د
ردیف ر
- ہے بسکہ ہر اک ان کے اشارے میں نشاں اور
- گھر جب بنا لیا ترے در پر کہے بغیر
- لازم تھا کہ دیکھو مرا رستا کوئی دن اور
- کیوں جل گیا نہ تاب رخ یار دیکھ کر
- بلا سے ہیں جو یہ پیش نظر در و دیوار
- لرزتا ہے مرا دل زحمت مہر درخشاں پر
- جنوں کی دستگیری کس سے ہو گر ہو نہ عریانی
- ستم کش مصلحت سے ہوں کہ خوباں تجھ پہ عاشق ہیں
- صفاۓ حیرت آئینہ ہے سامان زنگ آخر
ردیف ز
- نہ گل نغمہ ہوں نہ پردۂ ساز
- کیونکر اس بت سے رکھوں جان عزیز
- حریف مطلب مشکل نہیں فسون نیاز
- فارغ مجھے نہ جان کہ مانند صبح و مہر
- وسعت سعی کرم دیکھ کہ سر تا سر خاک
ردیف س
ردیف ش
ردیف ع
ردیف ف
ردیف ک
ردیف گ
ردیف ل
ردیف م
- بہ نالہ حاصل دل بستگی فراہم کر
- غم نہیں ہوتا ہے آزادوں کو بیش از یک نفس
- مجھ کو دیار غیر میں مارا وطن سے دور
ردیف ن
- دل ہی تو ہے نہ سنگ و خشت درد سے بھر نہ آئے کیوں
- دائم پڑا ہوا ترے در پر نہیں ہوں میں
- مہرباں ہو کے بلا لو مجھے چاہو جس وقت
- سب کہاں کچھ لالہ و گل میں نمایاں ہو گئیں
- ملتی ہے خوئے یار سے نار التہاب میں
- دیوانگی سے دوش پہ زنار بھی نہیں
- یہ ہم جو ہجر میں دیوار و در کو دیکھتے ہیں
- آبرو کیا خاک اس گل کی کہ گلشن میں نہیں
- جہاں تیرا نقش قدم دیکھتے ہیں
- وہ فراق اور وہ وصال کہاں
- حیراں ہوں دل کو روؤں کہ پیٹوں جگر کو میں
- کی وفا ہم سے تو غیر اس کو جفا کہتے ہیں
- ہم سے کھل جاؤ بوقت مے پرستی ایک دن
- عشق تاثیر سے نومید نہیں
- کل کے لیے کر آج نہ خست شراب میں
- دونوں جہان دے کے وہ سمجھے یہ خوش رہا
- غنچۂ ناشگفتہ کو دور سے مت دکھا کہ یوں
- دھوتا ہوں جب میں پینے کو اس سیم تن کے پاؤں
- ہم پر جفا سے ترک وفا کا گماں نہیں
- نہیں کہ مجھ کو قیامت کا اعتقاد نہیں
- مزے جہان کے اپنی نظر میں خاک نہیں
- دل لگا کر لگ گیا ان کو بھی تنہا بیٹھنا
- برشکال گریۂ عاشق ہے دیکھا چاہیے
- قیامت ہے کہ سن لیلیٰ کا دشت قیس میں آنا
- ذکر میرا بہ بدی بھی اسے منظور نہیں
- تیرے توسن کو صبا باندھتے ہیں
- ہو گئی ہے غیر کی شیریں بیانی کارگر
- لوں وام بخت خفتہ سے یک خواب خوش ولے
- عہدے سے مدح ناز کے باہر نہ آ سکا
- مانع دشت نوردی کوئی تدبیر نہیں
- نالہ جز حسن طلب اے ستم ایجاد نہیں
- مت مردمک دیدہ میں سمجھو یہ نگاہیں
- زمانہ سخت کم آزار ہے بہ جان اسدؔ
- نہیں ہے زخم کوئی بخیے کے در خور مرے تن میں
ردیف و
- رہیے اب ایسی جگہ چل کر جہاں کوئی نہ ہو
- کسی کو دے کے دل کوئی نواسنج فغاں کیوں ہو
- گئی وہ بات کہ ہو گفتگو تو کیونکر ہو
- تم جانو تم کو غیر سے جو رسم و راہ ہو
- قفس میں ہوں گر اچھا بھی نہ جانیں میرے شیون کو
- واں پہنچ کر جو غش آتا پئے ہم ہے ہم کو
- وارستہ اس سے ہیں کہ محبت ہی کیوں نہ ہو
- کعبہ میں جا رہا تو نہ دو طعنہ کیا کہیں
- حسد سے دل اگر افسردہ ہے گرم تماشا ہو
- واں اس کو ہول دل ہے تو یاں میں ہوں شرم سار
ردیف ہ
ردیف ھ
ردیف ی
- کوئی امید بر نہیں آتی
- عشق مجھ کو نہیں وحشت ہی سہی
- ابن مریم ہوا کرے کوئی
- دل سے تری نگاہ جگر تک اتر گئی
- نہ ہوئی گر مرے مرنے سے تسلی نہ سہی
- کب وہ سنتا ہے کہانی میری
- جس زخم کی ہو سکتی ہو تدبیر رفو کی
- منظور تھی یہ شکل تجلی کو نور کی
- غم دنیا سے گر پائی بھی فرصت سر اٹھانے کی
- بساط عجز میں تھا ایک دل یک قطرہ خوں وہ بھی
- جب تک دہان زخم نہ پیدا کرے کوئی
- پھر اس انداز سے بہار آئی
- حاصل سے ہاتھ دھو بیٹھ اے آرزو خرامی
- سیاہی جیسے گر جائے دم تحریر کاغذ پر
- جو نہ نقد داغ دل کی کرے شعلہ پاسبانی
- جنوں تہمت کش تسکیں نہ ہو گر شادمانی کی
- روندی ہوئی ہے کوکبۂ شہریار کی
- نکوہش ہے سزا فریادی بے داد دلبر کی
- دل ناداں تجھے ہوا کیا ہے
- ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے
- بازیچۂ اطفال ہے دنیا مرے آگے
- ہر ایک بات پہ کہتے ہو تم کہ تو کیا ہے
- حسن مہ گرچہ بہ ہنگام کمال اچھا ہے
- آ کہ مری جان کو قرار نہیں ہے
- آئینہ کیوں نہ دوں کہ تماشا کہیں جسے
- نکتہ چیں ہے غم دل اس کو سنائے نہ بنے
- مدت ہوئی ہے یار کو مہماں کیے ہوئے
- غیر لیں محفل میں بوسے جام کے
- پھر کچھ اک دل کو بے قراری ہے
- رونے سے اور عشق میں بے باک ہو گئے
- درد سے میرے ہے تجھ کو بے قراری ہائے ہائے
- کوئی دن گر زندگانی اور ہے
- وہ آ کے خواب میں تسکین اضطراب تو دے
- تسکیں کو ہم نہ روئیں جو ذوق نظر ملے
- ظلمت کدے میں میرے شب غم کا جوش ہے
- میں انہیں چھیڑوں اور کچھ نہ کہیں
- چاہیے اچھوں کو جتنا چاہیے
- زندگی اپنی جب اس شکل سے گزری غالبؔ
- عجب نشاط سے جلاد کے چلے ہیں ہم آگے
- کبھی نیکی بھی اس کے جی میں گر آ جائے ہے مجھ سے
- اس بزم میں مجھے نہیں بنتی حیا کیے
- دیا ہے دل اگر اس کو بشر ہے کیا کہئے
- بہت سہی غم گیتی شراب کم کیا ہے
- غم کھانے میں بودا دل ناکام بہت ہے
- دیکھنا قسمت کہ آپ اپنے پہ رشک آ جائے ہے
- گھر میں تھا کیا کہ ترا غم اسے غارت کرتا
- آمد سیلاب طوفان صداۓ آب ہے
- مسجد کے زیر سایہ خرابات چاہیے
- اگ رہا ہے در و دیوار سے سبزہ غالبؔ
- بے اعتدالیوں سے سبک سب میں ہم ہوئے
- فریاد کی کوئی لے نہیں ہے
- سادگی پر اس کی مر جانے کی حسرت دل میں ہے
- کہوں جو حال تو کہتے ہو مدعا کہیے
- عرض ناز شوخیٔ دنداں برائے خندہ ہے
- باغ پا کر خفقانی یہ ڈراتا ہے مجھے
- شکوے کے نام سے بے مہر خفا ہوتا ہے
- ہم رشک کو اپنے بھی گوارا نہیں کرتے
- جس بزم میں تو ناز سے گفتار میں آوے
- کیا تنگ ہم ستم زدگاں کا جہان ہے
- گر خامشی سے فائدہ اخفائے حال ہے
- نقش ناز بت طناز بہ آغوش رقیب
- تا ہم کو شکایت کی بھی باقی نہ رہے جا
- ہر قدم دورئ منزل ہے نمایاں مجھ سے
- ایک جا حرف وفا لکھا تھا سو بھی مٹ گیا
- صد جلوہ رو بہ رو ہے جو مژگاں اٹھائیے
- چاک کی خواہش اگر وحشت بہ عریانی کرے
- دیکھ کر در پردہ گرم دامن افشانی مجھے
- چشم خوباں خامشی میں بھی نوا پرداز ہے
- سرگشتگی میں عالم ہستی سے یاس ہے
- پینس میں گزرتے ہیں جو کوچے سے وہ میرے
- کہتے تو ہو تم سب کہ بت غالیہ مو آئے
- ہے آرمیدگی میں نکوہش بجا مجھے
- حضور شاہ میں اہل سخن کی آزمائش ہے
- شبنم بہ گل لالہ نہ خالی ز ادا ہے
- نوید امن ہے بیداد دوست جاں کے لیے
- نہ پوچھ نسخۂ مرہم جراحت دل کا
- تم اپنے شکوے کی باتیں نہ کھود کھود کے پوچھو
- خموشیوں میں تماشا ادا نکلتی ہے
- ہے وصل ہجر عالم تمکین و ضبط میں
- تغافل دوست ہوں میرا دماغ عجز عالی ہے
- لاغر اتنا ہوں کہ گر تو بزم میں جا دے مجھے
- گلشن کو تری صحبت از بس کہ خوش آئی ہے
- کیوں نہ ہو چشم بتاں محو تغافل کیوں نہ ہو
- ہوں میں بھی تماشائی نیرنگ تمنا
- خطر ہے رشتۂ الفت رگ گردن نہ ہو جاوے
- کوہ کے ہوں بار خاطر گر صدا ہو جائیے
- گرم فریاد رکھا شکل نہالی نے مجھے
- رفتار عمر قطع رہ اضطراب ہے
- حسن بے پروا خریدار متاع جلوہ ہے
- مستی بہ ذوق غفلت ساقی ہلاک ہے
- کرے ہے بادہ ترے لب سے کسب رنگ فروغ
- مری ہستی فضاۓ حیرت آباد تمنا ہے
- پا بہ دامن ہو رہا ہوں بسکہ میں صحرا نورد
- نشہ ہا شاداب رنگ و ساز ہا مست طرب
- سیماب پشت گرمی آئینہ دے ہے ہم
- یاد ہے شادی میں بھی ہنگامۂ یا رب مجھے
- رحم کر ظالم کہ کیا بود چراغ کشتہ ہے
- ہے بزم بتاں میں سخن آزردہ لبوں سے
- تپش سے میری وقف کشمکش ہر تار بستر ہے
- لب عیسیٰ کی جنبش کرتی ہے گہوارہ جنبانی
- ہجوم نالہ حیرت عاجز عرض یک افغاں ہے
- ز بسکہ مشق تماشا جنوں علامت ہے
- ہجوم غم سے یاں تک سرنگونی مجھ کو حاصل ہے
- کارگاہ ہستی میں لالہ داغ ساماں ہے
- جس جا نسیم شانہ کش زلف یار ہے