ہے وصل ہجر عالم تمکین و ضبط میں

ہے وصل ہجر عالم تمکین و ضبط میں

معشوق شوخ و عاشق دیوانہ چاہیے

اس لب سے مل ہی جائے گا بوسہ کبھی تو ہاں

شوق فضول و جرأت رندانہ چاہیے

عاشق نقاب جلوۂ جانانہ چاہیے

فانوس شمع کو پر پروانہ چاہیے

ماخذ: ویکی ماخذ · مرزا غالب