ز بسکہ مشق تماشا جنوں علامت ہے

ردیف: ہے

ز بسکہ مشق تماشا جنوں علامت ہے

کشاد و بست مژہ سیلی ندامت ہے

نہ جانوں کیونکہ مٹے طعن بد عہدی

تجھے کہ آئنہ بھی ورطۂ ملامت ہے

بہ پیچ و تاب ہوس سلک عافیت مت توڑ

نگاہ عجز سر رشتۂ سلامت ہے

وفا مقابل و دعواۓ عشق بے بنیاد

جنون ساختہ و فصل گل قیامت ہے

ماخذ: ویکی ماخذ · مرزا غالب