غزل
ردیف الف
- سچ اگر پوچھو تو نا پیدا ہے یک رو آشنا
- نہ بلبل میں نہ پروانے میں دیکھا
- میں اپنے دست پر شب خواب میں دیکھا کہ اخگر تھا
- کن کے کہنے میں جو ہوا سو ہوا
- کشش سے دل کی اس ابرو کماں کو ہم رکھا بہلا
- جو مے خانہ میں جاتا تھا قدم رکھتے جھجھکتا تھا
- جس نے آدم کے تئیں جاں بخشا
- جس کو دیکھا سو یہاں دشمن جاں ہے اپنا
- ہر گل اس باغ کا نظروں میں دہاں ہے گویا
- ہماری سیر کو گلشن سے کوئے یار بہتر تھا
- ایک مدت سے طلب گار ہوں کن کا ان کا
- احسان ترا دل مرا کیا یاد کرے گا
- دل مرا آج یار میں ہے گا
- دیکھا کسی نے ہم سے زمانے نے کیا کیا
- دورا ہے جب سے بزم میں تیری شراب کا
- عجب احوال دیکھا اس زمانے کے امیروں کا
- عاشق کا جہاں میں گھر نہ دیکھا
- آگے کیا تم سا جہاں میں کوئی محبوب نہ تھا
- آب حیات جا کے کسو نے پیا تو کیا
ردیف ب
- ساقی مجھے خمار ستائے ہے لا شراب
- نہ اتنا چاہئے اے پر شکم خواب
- کروں ہوں رات دن پھیرے کئی پھیرے میاں صاحب
ردیف ت
ردیف ٹ
ردیف چ
- عشق نے چٹکی سی لی پھر آ کے میری جاں کے بیچ
- اس واسطے نکلوں ہوں ترے کوچے سے بچ بچ
- بے ترے جان نہ تھی جان مری جان کے بیچ
ردیف ح
ردیف خ
ردیف د
ردیف ر
ردیف ز
ردیف س
ردیف ص
ردیف غ
ردیف ک
ردیف ل
ردیف م
- نہ محتسب سے یہ مجھ کو غرض نہ مست سے کام
- جب آپ سے ہی گزر گئے ہم
- ہووے وہ شوخ چشم اگر مجھ سے چار چشم
- دہن ہے تنگ شکر اور شکر ترا ہے کلام
ردیف ن
- تو صبح دم نہ نہا بے حجاب دریا میں
- تری جو زلف کا آیا خیال آنکھوں میں
- نے شکوہ مند دل سے نہ از دست دیدہ ہوں
- نہ کچھ ستم سے ترے آہ آہ کرتا ہوں
- ملا دئے خاک میں خدا نے پلک کے لگتے ہی شاہ لاکھوں
- میں ذات کا اس کی آشنا ہوں
- کون دل ہے کہ ترے درد میں بیمار نہیں
- جب سے تمہاری آنکھیں عالم کو بھائیاں ہیں
- اس کی قدرت کی دید کرتا ہوں
- اس دور کے اثر کا جو پوچھو بیاں نہیں
- دنیا خیال و خواب ہے میری نگاہ میں
- دیکھنے سے ترے جی پاتا ہوں
- بندہ اگر جہاں میں بجائے خدا نہیں
ردیف و
- رکھتا ہوں میں حق پر نظر کوئی کچھ کہو کوئی کچھ کہو
- مے ہو ابر و ہوا نہیں تو نہ ہو
- عشق نہیں کوئی نہنگ ہے یارو
- ہم کو کب انتظار ہے فصل بہار ہو نہ ہو
- درد دل میری آہ سے پوچھو
ردیف ہ
ردیف ھ
ردیف ی
- کلیجا منہ کو آیا اور نفس کرنے لگا تنگی
- ایک تو تری دولت تھا ہی دل یہ سودائی
- وحشت سے ہر سخن مرا گویا غزالہ ہے
- تمہارے عشق میں ہم ننگ و نام بھول گئے
- تو جو کہتا ہے بولتا کیا ہے
- تو دیکھ اسے سب جا آنکھوں کے اٹھا پردے
- تری بھواں کی تیغ جب آئی نظر مجھے
- ترا دل یار اگر مائل کرے ہے
- توبہ زاہد کی توبہ تلی ہے
- طریقت میں اگر زاہد مجھے گمراہ جانے ہے
- شیخ تو تو مرید ہستی ہے
- سب مخالف جب کنارے ہو گئے
- رونا وہی جو خوف الٰہی سے روئیے
- پھر خبر اس فصل میں یارو بہار آنے کی ہے
- نہ تن میں استخوان نے رگ رہی ہے
- مجھے کیا دیکھ کر تو تک رہا ہے
- کیونکہ دیوانہ بیڑیاں توڑے
- کیا اس کی صفت میں گفتگو ہے
- کیا ہوا گر شیخ یارو حاجی الحرمین ہے
- کہیں وہ صورت خوباں ہوا ہے
- جنبش دل نہیں بے جا تو کدھر بھولا ہے
- جو مرے ہم عصر ہم صحبت تھے سو سب مر گئے
- جو کوئی کہ یار و آشنا ہے
- جس کوں پی کا خیال ہوتا ہے
- جب وہ عالی دماغ ہنستا ہے
- عشق کے شہر کی کچھ آب و ہوا اور ہی ہے
- اس دکھ میں ہائے یار یگانے کدھر گئے
- ہستی کی قید سے اے دل آزاد ہوئیے
- ہمیں یاد آوتی ہیں باتیں اس گل رو کی رہ رہ کے
- ہماری عقل بے تدبیر پر تدبیر ہنستی ہے
- گل کی اور بلبل کی صحبت کو چمن کا شانہ ہے
- گزک کی اس قدر اے مست تجھ کو کیا شتابی ہے
- فکر میں مفت عمر کھونا ہے
- دیکھنا اس کی تجلی کا جسے منظور ہے
- دیکھ بنیاد رب کی آدم ہے
- باغ میں تو کبھو جو ہنستا ہے
- اوقات شیخ گو کہ سجود و قیام ہے
- ابر میں یاد یار آوے ہے
- اب کی چمن میں گل کا نے نام و نے نشاں ہے
- عاشقوں کے سیر کرنے کا جہاں ہی اور ہے