جس کو دیکھا سو یہاں دشمن جاں ہے اپنا

ردیف: ہے اپنا

جس کو دیکھا سو یہاں دشمن جاں ہے اپنا

دل کو جانے تھے ہم اپنا سو کہاں ہے اپنا

قصۂ مجنوں و فرہاد بھی اک پردا ہے

جو فسانہ ہے یہاں شرح و بیاں ہے اپنا

وصف کہنے میں ترے حسن کے شرمندہ ہوں

اس کے قابل نہ زباں ہے نہ دہاں ہے اپنا

جس کو جانا ہو بھلا اس کو برا کیا کہیے

گو کہ بد وضع ہے پر اب تو میاں ہے اپنا

ماخذ: ویکی ماخذ · شیخ ظہور الدین حاتم