عاشق کا جہاں میں گھر نہ دیکھا

ردیف: نہ دیکھا

عاشق کا جہاں میں گھر نہ دیکھا

ایسا کوئی در بدر نہ دیکھا

جیسا کہ اڑے ہے طائر دل

ایسا کوئی تیز پر نہ دیکھا

خوبان جہاں ہوں جس سے تسخیر

ایسا کوئی ہم ہنر نہ دیکھا

ٹوٹے دل کو بنا دکھاوے

ایسا کوئی کاری گر نہ دیکھا

اس تیغ نگہ سے ہو مقابل

ایسا کوئی بے جگر نہ دیکھا

جاری ہیں ہمیشہ چشمۂ چشم

ایسا کوئی ابر تر نہ دیکھا

جو آب ہے آبرو میں حاتمؔ

ایسا کوئی ہم گہر نہ دیکھا

ماخذ: ویکی ماخذ · شیخ ظہور الدین حاتم