رباعی
- یہ مجھ سے نہ پوچھ تو نے کیا کیا دیکھا
- یا رب مرے دل میں ہے اجالا تیرا
- ثابت ہے تن میں بادشاہی دل کی
- پیری میں شباب کی نشانی نہ ملی
- پیدل نہ مجھے روز شمار ان سے دے
- نقشہ لیل و نہار کا کھینچا ہے
- مانا واعظ بڑا ہی علامہ ہے
- میں سر پہ گناہوں کا لئے بار آیا
- میں اپنے کفن کا سینے والا نکلا
- کچھ لطف سخن وقت ملاقات نہیں
- کہتے ہیں کہ رونق جمالی ہوں میں
- اقرار نگر کو گدائی کا ہے
- ہم راہ عدم سے اضطراب آیا ہے
- ہے سوئے فلک نظر تماشا کیا ہے
- ہے عرش بھی یک فرش قدم کا تیرے
- غفلت کے تخم بونے والے اٹھے
- اشک آئے غم شہ سے جو چشم تر میں
- اللہ متاع زندگانی مل جائے
- افزوں جو شباب دم بدم ہوتا ہے