رباعی

  1. دولت نہیں جب تک یہ زبوں رہتے ہیں
  2. ہے جس کی سرشت میں سفاہت کا میل
  3. تن عیش کا گھر ہے اس کا اسباب ہے روح
  4. کہتے ہو کہ کر لیں گے ہم اس کام کو کل
  5. ایرانی فصاحت اور حجازی غیرت
  6. اخلاق کے عنصر ہوں اگر اصل مزاج
  7. یہ بات عجیب نگاہ میں آئی ہے
  8. دولت کے بھروسے پہ نہ ہونا غافل
  9. پاتا نہیں موت پر کوئی شخص ظفر
  10. غیرت میں سیاست میں شجاعت میں ہو مرد
  11. لازم نہیں اس دولت فانی پہ دماغ
  12. مرغوب ہو گر تم کو عمومی شاباش
  13. اس سے کہ کہیں کے شاہ ہو سکتے ہم
  14. جس علم سے اچھوں کی ہو خوبی ظاہر
  15. تعلیم کی میزان میں ہیں تلتے جاتے