رباعی
- دولت نہیں جب تک یہ زبوں رہتے ہیں
- ہے جس کی سرشت میں سفاہت کا میل
- تن عیش کا گھر ہے اس کا اسباب ہے روح
- کہتے ہو کہ کر لیں گے ہم اس کام کو کل
- ایرانی فصاحت اور حجازی غیرت
- اخلاق کے عنصر ہوں اگر اصل مزاج
- یہ بات عجیب نگاہ میں آئی ہے
- دولت کے بھروسے پہ نہ ہونا غافل
- پاتا نہیں موت پر کوئی شخص ظفر
- غیرت میں سیاست میں شجاعت میں ہو مرد
- لازم نہیں اس دولت فانی پہ دماغ
- مرغوب ہو گر تم کو عمومی شاباش
- اس سے کہ کہیں کے شاہ ہو سکتے ہم
- جس علم سے اچھوں کی ہو خوبی ظاہر
- تعلیم کی میزان میں ہیں تلتے جاتے