دولت نہیں جب تک یہ زبوں رہتے ہیں
دولت نہیں جب تک یہ زبوں رہتے ہیں
محراب دعا میں سرنگوں رہتے ہیں
آ جاتی ہے جس وقت گھر ان کے دولت
پھر کیا ہے یہ سرگرم جنوں رہتے ہیں
دولت نہیں جب تک یہ زبوں رہتے ہیں
محراب دعا میں سرنگوں رہتے ہیں
آ جاتی ہے جس وقت گھر ان کے دولت
پھر کیا ہے یہ سرگرم جنوں رہتے ہیں
ماخذ: ویکی ماخذ · سید محمد عبد الغفور شہباز