رباعی

  1. ہر قلب پہ بجلیاں گراتی آئی
  2. ملنا کس کام کا اگر دل نہ ملے
  3. افلاس اچھا نہ فکر دولت اچھی
  4. انداز جفا بدل کے دیکھو تو سہی
  5. سرمایۂ اعتبار دے دیں تم کو
  6. نالہ تیرا ناز سے بالا ہے
  7. تم تیشۂ باغباں سے کیوں مضطر ہو
  8. اب دشمن جاں ہی کلفت غم ساقی
  9. پھولوں سے تمیز خار پیدا کر لیں