وفا کے زخم ہم دھونے نہ پائے

ردیف: نہ پائے

وفا کے زخم ہم دھونے نہ پائے

بہت روئے مگر رونے نہ پائے

کچھ اتنا شور تھا شہر سبا میں

مسافر رات بھر سونے نہ پائے

جہاں تھی حادثہ ہر بات باقیؔ

وہیں کچھ حادثے ہونے نہ پائے

ماخذ: ویکی ماخذ · باقی صدیقی