باقی صدیقی
۱۳۲۳ – ۱۳۹۲ ھ · ۱۹۰۵ – ۱۹۷۲ ء
باقی صدیقی پنجابی، پوٹھاری اور اردو زبان کے مشہور شاعر ہیں ان کا تعلق پاکستان سے ہے باقی صدیقی کی وجہ شہرت ان کی مشہور غزل داغ دل یاد آنے لگے ہے باقی صدیقی ۲۰ دسمبر۱۹۰۵میں راولپنڈی کے گاؤں سہام یا شام میں پیدا ہوئے جو اس وقت برٹش انڈیا کا حصہ تھاپیدائش کے وقت والدین نے باقی صدیقی صاحب کا نام محمد افضل رکھا تھا تاہم وہ اپنے ادبی نام سے جانے جاتے ہیں باقی صاحب کے والد برٹش راج میں شمال مغربی ریاست کے ریلوے کے محکمے میں ملاز م تھے باقی صدیقی صاحب نے میٹرک کا امتحان پاس کرنے کے بعد کچھ عرصہ اسکول میں بطور استاد خدمات انجام دیں بعد ازاں وہ ۱۹۳۲ میں ممبئی منتقل ہو گئے اور ممبئی کی فلم نگری میں بطور اداکار اور مکالمہ نگار خدمات انجام دینے لگے ۱۹۴۰میں برطانوی فوج میں شامل ہوئے مگر فورا ہی استفعی دے دیا اور دوبارہ اپنے آبائی علاقے میں واپس آکر راولپنڈی میں ریڈیو پاکستان سے وابستہ ہو گئے جہاں انھوں نے لگ بھگ اٹھارہ برس خدمات انجام دیں اس دوران انھوں نے پوٹھاری زبان کے کئی عمدہ نغمے لکھ کر شہرت حاصل کی ابتدائی اور پیشہ وارنہ زندگی باقی صدیقی صاحب نے اپنی شاعری کا آغاز ۱۹۲۸ میں مشاعروں سے کیا ان مشاعروں میں وہ اپنے قلمی نام باقی صدیقی سے شرکت کرتے تھے ابتدا میں وہ صرف پنجابی اور پوٹھاری میں شاعری کرتے تھے تاہم جلد ہی انھوں نے اردو زبان میں بھی اشعار کہنا شروع کردئے اور اردوزبان کے کئی شعرا سے مراسم پیدا کرلئے جس میں محسن احسان، شوکت واسطی، احمد فراز، رضا حمدانی، احسان دانش، عبد الحمید عدم وغیرہ قابل زکر ہیں باقی صدیقی صاحب کا پہلا مجموعہ کلام۱۹۴۴میں '' جام جم'' کے نام سے شائع ہوا جب کہ بقیہ دو کلام'' کتنی دیر چراغ جلا'' اور'' زاد راہ'' ان کے انتقال کے بعد۱۹۷۷ اور۱۹۸۴ میں منظر عام پر آئے۔ ذاتی زندگی باقی صدیقی صاحب نے ساری زندگی شادی نہیں کی انھوں نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ اپنی چھوٹی مطلقہ بہن اصغری خانم کو سہارا دینے میں ان کے ساتھ گزارا۔ کتابیں جام جم (نظمیں اور غزلیں) اشاعت ۱۹۴۴ دارورسن اشاعت۱۹۵۱ زخم بہار اشاعت ۱۹۶۱ کچے گھڑے (پوٹھاری شاعری)اشاعت۱۹۶۷ کتنی دیر چراغ جلا اشاعت ۱۹۷۷ زاد راہ (نشید) اشاعت ۱۹۸۴ انتقال باقی صدیقی صاحب کا انتقال۸ جنوری۱۹۷۲ میں راولپنڈی میں ہوااور ان کے آبائی علاقے میں تدفین کی گئی۔