غزل
ردیف الف
- آستیں میں سانپ اک پلتا رہا
- ایسا وار پڑا سر کا
- وہ مقام دل و جاں کیا ہوگا
- رنگ دل رنگ نظر یاد آیا
- کیا پتا ہم کو ملا ہے اپنا
- اس کار گہ رنگ میں ہم تنگ نہیں کیا
- ندی کے اس پار کھڑا اک پیڑ اکیلا
- تری نگاہ کا انداز کیا نظر آیا
- مرحلہ دل کا نہ تسخیر ہوا
ردیف ط
ردیف ل
ردیف م
ردیف ن
- یوں بھی ہونے کا پتا دیتے ہیں
- تم کب تھے قریب اتنے میں کب دور رہا ہوں
- خبر کچھ ایسی اڑائی کسی نے گاؤں میں
- وقت رستے میں کھڑا ہے کہ نہیں
- تارے درد کے جھونکے بن کر آتے ہیں
ردیف و
ردیف ی
- دل سے باہر ہیں خریدار ابھی
- وہ نظر آئینہ فطرت ہی سہی
- داغ دل ہم کو یاد آنے لگے
- اعتبار نظر کریں کیسے
- وفا کے زخم ہم دھونے نہ پائے
- ہم کہاں آئنہ لے کر آئے
- ہر طرف بکھرے ہیں رنگیں سائے
- ہم ذرے ہیں خاک رہ گزر کے
- رسم سجدہ بھی اٹھا دی ہم نے
- دل جنس محبت کا خریدار نہیں ہے
- جنوں کی راکھ سے منزل میں رنگ کیا آئے
- مرحلے زیست کے آسان ہوئے