غزل
ردیف الف
- وہ کیا دن تھے جو قاتل بن دل رنجور رو دیتا
- وقت بوسے کے مرا منہ اس کے لب سے جوں جڑا
- تجھ قبا پر گلاب کا بوٹا
- ننگ نہیں مجھ کو تڑپنے سے سنبھل جانے کا
- مرے نزع کو مت اس سے کہو ہوا سو ہوا
- میرے اشکوں کی گئی تھی ریل ویرانے پہ کیا گزرا
- مغز بہار اس برس اس بن بچا نہ تھا
- خدا شاہد بتو دو جگ سے یہ سودا ہے نروالا
- غنچۂ دل مرا کھا کر گل خنداں میرا
- گر میرے لہو رونے کا باران بنے گا
- بہار آئی بتنگ آیا دل وحشت پناہ اپنا
- ارے الٹے زمانے مجھ پہ کیا سیدھا ستم لایا
- اگر میں معجزے کو خاکساری کے عیاں کرتا
- عبث توڑا مرا دل ناز سکھلانے کے کام آتا
- آج دل بے قرار ہے میرا
ردیف ب
- تیرہ بختوں کو کرے ہے نالۂ غمگیں خراب (I)
- تیرہ بختوں کو کرے ہے نالۂ غمگیں خراب (II)
- دلوں میں رہئے جہاں کے ولے خدا کے ڈھب
ردیف ت
ردیف ج
ردیف چ
ردیف خ
ردیف د
ردیف ذ
ردیف ز
ردیف ش
ردیف ص
ردیف ض
ردیف ط
ردیف ف
ردیف گ
ردیف ن
- ترے لب بن ہے دل میں شعلہ زن مل جس کو کہتے ہیں
- میں وہ مجنوں ہوں کہ آباد نہ اجڑا سمجھوں
- جنوں آور شب مہتاب تھی پی کی تمنا میں
- جاتی رہیں کدھر وہ محبت کی بانیاں
- ہنسوں جوں گل ترے زخموں سے الفت اس کو کہتے ہیں
- بہار آئی جنوں لے گا ہمارا امتحاں دیکھیں
ردیف و
- پھر آئی فصل گل اے یار دیکھیے کیا ہو
- درد جوں شمع ملے ہے شب ہجراں مجھ کو
- اے یار مجھ افسردۂ ہجراں کو پہنچ تو
ردیف ہ
ردیف ی
- شتاب کھو گئی پیری جوانی دو دن کی
- موسم گل میں ہیں دیوانوں کے بازار کئی
- یار اٹھ گئے دنیا سے اغیار کی باری ہے
- تجھ سے بوسہ میں نہ مانگا کبھو ڈرتے ڈرتے
- مجھ قبر سے یار کیونکے جاوے
- خنک جوشی نہ کرتے جوں صبا گر یہ بتاں ہم سے
- خدا کسی کوں کسی ساتھ آشنا نہ کرے
- خدا ہی پہنچے فریادوں کو ہم سے بے نصیبوں کے
- جن دنوں ہم اس شب حظ کے سیہ کاروں میں تھے
- جب سے دلبر نے آنکھ پھیرا ہے
- ہوئے ہم جب سے پیدا اپنے دیوانے ہوئے ہوتے
- بندے ہیں تیری چھب کے مہ سے جمال والے
- بہار آدھی گزر گئی ہائے ہم قیدی ہیں زنداں کے
- اسیری بے مزہ لگتی ہے بن صیاد کیا کیجے
- اے ناصح چشم تر سے مت کر آنسو پاک رہنے دے