غزل

ردیف الف

  1. وہ کیا دن تھے جو قاتل بن دل رنجور رو دیتا
  2. وقت بوسے کے مرا منہ اس کے لب سے جوں جڑا
  3. تجھ قبا پر گلاب کا بوٹا
  4. ننگ نہیں مجھ کو تڑپنے سے سنبھل جانے کا
  5. مرے نزع کو مت اس سے کہو ہوا سو ہوا
  6. میرے اشکوں کی گئی تھی ریل ویرانے پہ کیا گزرا
  7. مغز بہار اس برس اس بن بچا نہ تھا
  8. خدا شاہد بتو دو جگ سے یہ سودا ہے نروالا
  9. غنچۂ دل مرا کھا کر گل خنداں میرا
  10. گر میرے لہو رونے کا باران بنے گا
  11. بہار آئی بتنگ آیا دل وحشت پناہ اپنا
  12. ارے الٹے زمانے مجھ پہ کیا سیدھا ستم لایا
  13. اگر میں معجزے کو خاکساری کے عیاں کرتا
  14. عبث توڑا مرا دل ناز سکھلانے کے کام آتا
  15. آج دل بے قرار ہے میرا

ردیف ب

  1. تیرہ بختوں کو کرے ہے نالۂ غمگیں خراب (I)
  2. تیرہ بختوں کو کرے ہے نالۂ غمگیں خراب (II)
  3. دلوں میں رہئے جہاں کے ولے خدا کے ڈھب

ردیف ت

  1. جوں گل ازبسکہ جنوں ہے مرا سامان کے سات
  2. جو عاشق ہو اسے صحرا میں چل جانے سے کیا نسبت

ردیف ج

  1. غیر آہ سرد نہیں داغوں کے جانے کا علاج

ردیف چ

  1. فصل گل میں نئیں بگھولے اٹھتے ویرانوں کے بیچ

ردیف خ

  1. جپے ہے ورد سا تجھ سے صنم کے نام کو شیخ
  2. ہے اس کی زلف سے نت پنجۂ عدو گستاخ

ردیف د

  1. نین میں خوں بھر آیا دل میں خار غم چھپا شاید

ردیف ذ

  1. گل رہے نہیں نام کو سرکش ہیں خاراں العیاذ

ردیف ز

  1. گرد باد افسوس کا جنگل سے ہے پیدا ہنوز

ردیف ش

  1. ماہ کامل ہو مقابل یار کے رو سے چے خوش

ردیف ص

  1. نہ شوخیوں سے کرے ہیں وہ چشم گلگوں رقص

ردیف ض

  1. خط نے آ کر کی ہے شاید رحم فرمانے کی عرض

ردیف ط

  1. کفر مومن ہے نہ کرنا دلبراں سے اختلاط

ردیف ف

  1. گھر یار کا ہم سے دور پڑا گئی ہم سے راحت ایک طرف

ردیف گ

  1. پھونک دے ہے منہ ترا ہر صاف دل کے تن میں آگ
  2. کر رہے ہیں مجھ سے تجھ بن دیدۂ نمناک جنگ

ردیف ن

  1. ترے لب بن ہے دل میں شعلہ زن مل جس کو کہتے ہیں
  2. میں وہ مجنوں ہوں کہ آباد نہ اجڑا سمجھوں
  3. جنوں آور شب مہتاب تھی پی کی تمنا میں
  4. جاتی رہیں کدھر وہ محبت کی بانیاں
  5. ہنسوں جوں گل ترے زخموں سے الفت اس کو کہتے ہیں
  6. بہار آئی جنوں لے گا ہمارا امتحاں دیکھیں

ردیف و

  1. پھر آئی فصل گل اے یار دیکھیے کیا ہو
  2. درد جوں شمع ملے ہے شب ہجراں مجھ کو
  3. اے یار مجھ افسردۂ ہجراں کو پہنچ تو

ردیف ہ

  1. جب تن نہ رہا میرا ہوں واصل جانانہ

ردیف ی

  1. شتاب کھو گئی پیری جوانی دو دن کی
  2. موسم گل میں ہیں دیوانوں کے بازار کئی
  3. یار اٹھ گئے دنیا سے اغیار کی باری ہے
  4. تجھ سے بوسہ میں نہ مانگا کبھو ڈرتے ڈرتے
  5. مجھ قبر سے یار کیونکے جاوے
  6. خنک جوشی نہ کرتے جوں صبا گر یہ بتاں ہم سے
  7. خدا کسی کوں کسی ساتھ آشنا نہ کرے
  8. خدا ہی پہنچے فریادوں کو ہم سے بے نصیبوں کے
  9. جن دنوں ہم اس شب حظ کے سیہ کاروں میں تھے
  10. جب سے دلبر نے آنکھ پھیرا ہے
  11. ہوئے ہم جب سے پیدا اپنے دیوانے ہوئے ہوتے
  12. بندے ہیں تیری چھب کے مہ سے جمال والے
  13. بہار آدھی گزر گئی ہائے ہم قیدی ہیں زنداں کے
  14. اسیری بے مزہ لگتی ہے بن صیاد کیا کیجے
  15. اے ناصح چشم تر سے مت کر آنسو پاک رہنے دے