تجھ قبا پر گلاب کا بوٹا
غیر مردف
تجھ قبا پر گلاب کا بوٹا
دل بلبل گویا ابھی ٹوٹا
سچ کہوں عہد ہے ترا جھوٹا
تو سلامت رہے یہ دل ٹوٹا
خط نے زلفوں کا قتل عام کیا
فوج نادر نے ہند کو لوٹا
دل ہوا بوئے گل سا صحرائی
جب وہ پنجے سے غنچے کے چھوٹا
غیر مردف
تجھ قبا پر گلاب کا بوٹا
دل بلبل گویا ابھی ٹوٹا
سچ کہوں عہد ہے ترا جھوٹا
تو سلامت رہے یہ دل ٹوٹا
خط نے زلفوں کا قتل عام کیا
فوج نادر نے ہند کو لوٹا
دل ہوا بوئے گل سا صحرائی
جب وہ پنجے سے غنچے کے چھوٹا