عبث توڑا مرا دل ناز سکھلانے کے کام آتا

ردیف: کے کام آتا

عبث توڑا مرا دل ناز سکھلانے کے کام آتا

یہ آئینہ تھا اس خودبیں کو اترانے کے کام آتا

جلایا مصحف دل تو نے کیوں برق تغافل سے

جو سچ بولوں تجھے جھوٹی قسم کھانے کے کام آتا

نہ ملتا خاک میں اس گل کے غم کا اشک اگر میرا

کسی بلبل کے شاید آب اور دانے کے کام آتا

دل صد چاک کا شانہ مرا ٹوٹا ترے ہاتھوں

وگرنہ زلف دود آہ سلجھانے کے کام آتا

لئے عزلتؔ کے موئے سر بیاباں کے ببولوں نے

جو بچتا یہ چنور جاروب ویرانے کے کام آتا

ماخذ: ویکی ماخذ · ولی عزلت